Skip to main content

Posts

ڈاکٹر رُتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے عافیہ مقبول جہانگیر ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میںوہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ ...
Recent posts

اپنے ہوئے پرائے

اپنے ہوئے پرائے امیری اور غریبی کے فرق نے خونی رشتوں میں بھی دراڑیں ڈال دیں عافیہ مقبول جہانگیر انسان اگرچہ سماجی حیوان ہے اور مل جل کر رہنا ایک سماج، ایک معاشرے میں اس کی اقدار کا پابند رہ کر زندگی بسر کرنا اس کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں بھی مختلف طبقات اور ان کی الگ الگ اقدار کا اپنا اپنا حلقہ ہوتا ہے اور وہ طبقے جنم جنم سے اسی محور پر چلتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل لگن محنت اور اتفاقی واقعات کی بدولت غریب اور متوسط طبقے کے کچھ افرادیہ طبقاتی فرق تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس میں ایڈجسٹ کرنے اور اس کے طور طریقے اپنانے میں بھی خاصا وقت درکار ہوتا ہے اور اس وجہ سے بعض اوقات انہیں ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ترقی کر کے کلاس تبدیل کرنے والے افراد کو مدت تک ’’نو دولتیے‘‘ کی چھاپ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ معاشرے کے طبقات کی طرح ایک ہی خاندان میں بھی مختلف حیثیت اور مرتبے کے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا آپس میں تعلق کمزور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو جاتاہے اور بعض اوقات تو ایک سے ...

فیشن دیوتا کے چرنوں میں!fashion

فیشن دیوتا کے چرنوں میں!   فیشن کے نام پر چند چیتھڑوں کا بے تُکا استعمال آج کے دور میںــ’’جدت پسندی‘‘ کہلاتا ہے بیہودہ ملبوسات اور ماڈرن طرزِ زندگی ہمیں ترقی کی طرف لے جا رہے یا۔۔؟ عافیہ مقبول جہانگیر کیمرے کی چکاچوند فلیش لائٹیں آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی ہیں۔پورا ہال مع سٹیج بقعۂ نُوربنا ہواہے۔پسِ پردہ چلتی ہیجان انگیز موسیقی حواس پر طاری ہے۔ایک کے بعد ایک طرح دار حسینائیں رنگارنگ ملبوسات زیب تن کیے،فخروغرور سے گردنیں اکڑائے باری باری حاضرین کے سامنے جلوہ افروز ہو رہی ہیں۔ایسا رومان پرور اور ہوشربامنظر دیکھنے کے لیے شہر بھرکے معززین اور مشہور شخصیات ایک چھت تلے جمع ہیں۔نہ یہاں فرقوں کا جھگڑا،نہ مسلک کا۔سب مکمل یک جہتی کا عالیشان مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی اتفاق و سلوک کی عمدہ مثال بنے’’ایک قوم ہیں ہم ‘‘کی زندہ تفسیر بنے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ حسیناؤں کو داد دینے کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے پیغام بھی دیتے ہیں۔سب جانتے ہیں پھر بھی انجان بنے ہوئے ہیں کیونکہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔کون کس کی پردہ پوشی کرے اور کون کس کے راز کھولے، اس سے کسی کو ...