Skip to main content

Posts

Showing posts with the label سماجیات

اپنے ہوئے پرائے

اپنے ہوئے پرائے امیری اور غریبی کے فرق نے خونی رشتوں میں بھی دراڑیں ڈال دیں عافیہ مقبول جہانگیر انسان اگرچہ سماجی حیوان ہے اور مل جل کر رہنا ایک سماج، ایک معاشرے میں اس کی اقدار کا پابند رہ کر زندگی بسر کرنا اس کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں بھی مختلف طبقات اور ان کی الگ الگ اقدار کا اپنا اپنا حلقہ ہوتا ہے اور وہ طبقے جنم جنم سے اسی محور پر چلتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل لگن محنت اور اتفاقی واقعات کی بدولت غریب اور متوسط طبقے کے کچھ افرادیہ طبقاتی فرق تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس میں ایڈجسٹ کرنے اور اس کے طور طریقے اپنانے میں بھی خاصا وقت درکار ہوتا ہے اور اس وجہ سے بعض اوقات انہیں ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ترقی کر کے کلاس تبدیل کرنے والے افراد کو مدت تک ’’نو دولتیے‘‘ کی چھاپ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ معاشرے کے طبقات کی طرح ایک ہی خاندان میں بھی مختلف حیثیت اور مرتبے کے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا آپس میں تعلق کمزور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو جاتاہے اور بعض اوقات تو ایک سے ...

سوشل میڈیا اور بچوں کی تربیت

سماجیات مجھے’’ماں‘‘مت کہو سوشل میڈیا اور بچوں کی تربیت کچھ مغرب زدہ والدین کی انٹرنیٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مشغلوں نے اولاد کو یہ کھیل وراثت میں دے دیا۔ عافیہ مقبول جہانگیر دورِجدیدمیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ان کے فوائد اور نقصانات کو بنظرِغائردیکھا اور پرکھا جائے توہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ سب ہماری سوچ اور ذہنیت پر منحصرہے کہ ہم اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک بے حد تشویشناک صورتحال ہمارے معاشرے میں وبا کی صورت پھیل رہی ہے، جو نو عمر بچوں کا ان سوشل میڈیاز کا انتہائی آزادانہ اور بے محابہ استعمال ہے۔ ۲۰۰۷ ء میں فیس بُک نامی سماجی رابطے کی اس سائٹ نے شروعات کی تب چند ایک نے ہی اسے استعمال کیا اُس وقت اس سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کی آپشن کے ساتھ ہی خاص طور پر تاکید کی جاتی کہ اکاؤنٹ بنانے والے کا شناختی کارڈ نمبر یا کریڈٹ کارڈ نمبر بھی لکھیں تاکہ واضح ہو سکے کہ آئی ڈی بنانے والا انسان بالغ ہے۔اس طرح بننے والی آئی ڈی نہ صرف قابلِ بھروسہ ہوتی تھی بلکہ اُس کا غلط استعمال بھی ممکن نہ تھا لیکن وقت کے س...

مہمان…رحمت یا بلائے جان؟

  مہمان…رحمت یا بلائے جان؟ عافیہ مقبول جہانگیر میل ملاپ، دوستی اور رشتے داریاں نبھانا ہر معاشرے میں ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک مصروف اور مہذب معاشرے میں لوگ اپنے میزبان کو مطلع کیے بغیر ان کے دفتر یا گھر کبھی نہیں جاتے، مگر ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ ہم لوگ اتنا ’’پرتکلف‘‘ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ خود بھی وقت بے وقت کبھی بھی کسی کے بھی گھر چلے جاتے ہیں۔ خواہ وہ پڑوسی ہویا رشتے دار۔ کبھی کبھار تو ایسا چل جاتا ہے، لیکن اکثر مہمان ہمیشہ ہی ایسے وقت میں آ جاتے ہیں جب افراد خانہ کے لیے انھیں وقت اور توجہ دینا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ہم سب ہی عموماً اپنے مہمانوں کو یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ وہ نامناسب وقت پر آئے ہیں اور قہردرویش برجانِ درویش کے مصداق ان کی خاطر میں جت جاتے ہیں۔ اگرچہ اپنے کسی ضروری کام یا آرام کا وقت کسی دوسرے کو دینا بہت مشکل لگتا ہے۔ لیکن اپنے باہمی روابط اور تعلقات کو خوشگوار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آنے والوں کو نرمی سے ان کی غلطی کا احساس دلا دیں اور خود بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ جب کسی سے ملنے ان کے گھر یا دفتر جائیں، تو میزب...