Skip to main content

مہمان…رحمت یا بلائے جان؟



 مہمان…رحمت یا بلائے جان؟
عافیہ مقبول جہانگیر




میل ملاپ، دوستی اور رشتے داریاں نبھانا ہر معاشرے میں ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک مصروف اور مہذب معاشرے میں لوگ اپنے میزبان کو مطلع کیے بغیر ان کے دفتر یا گھر کبھی نہیں جاتے، مگر ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ ہم لوگ اتنا ’’پرتکلف‘‘ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ خود بھی وقت بے وقت کبھی بھی کسی کے بھی گھر چلے جاتے ہیں۔ خواہ وہ پڑوسی ہویا رشتے دار۔ کبھی کبھار تو ایسا چل جاتا ہے، لیکن اکثر مہمان ہمیشہ ہی ایسے وقت میں آ جاتے ہیں جب افراد خانہ کے لیے انھیں وقت اور توجہ دینا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ہم سب ہی عموماً اپنے مہمانوں کو یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ وہ نامناسب وقت پر آئے ہیں اور قہردرویش برجانِ درویش کے مصداق ان کی خاطر میں جت جاتے ہیں۔ اگرچہ اپنے کسی ضروری کام یا آرام کا وقت کسی دوسرے کو دینا بہت مشکل لگتا ہے۔ لیکن اپنے باہمی روابط اور تعلقات کو خوشگوار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم آنے والوں کو نرمی سے ان کی غلطی کا احساس دلا دیں اور خود بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ جب کسی سے ملنے ان کے گھر یا دفتر جائیں، تو میزبان اپنے کسی ضروری کام میں رخنہ محسوس نہ کرے۔

ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس قسم کے مہمانوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جو نہ صرف بغیر بتائے آتے ہیں بلکہ آ کے جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔ خاتون خانہ کھانا پکا رہی ہیں، تو بھی وہ اکیلے بیٹھے بور نہیں ہوتے بلکہ الٹا شکایت کرتے ہیں کہ آپ انھیں وقت نہیں دے رہیں
۔
 کچھ مہمان جن کے ہمراہ چھوٹے بچے ہوتے ہیں ان کی دیکھ بھال کرنا عذاب بن جاتا ہے۔ بچے آپ کے گھر کی ہر چیز کو چھیڑتے ہیں لیکن ماں باپ منع نہیں کرتے۔ لہٰذا مہمانوں کی تواضع کے ساتھ ساتھ اپنا گھریلو کام نپٹانا اور مہمان بچوں کا خیال رکھنا بھی آپ کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تو حد ہو جاتی ہے مہمان بچے جوتوں سمیت صوفوں پر چڑھ کر ناچتے اور کھانے پینے کی اشیا کو اِدھراُدھر چھڑکتے پھرتے ہیں۔ پھر انھیں پیروں سے مَسل کر قالین کا بیڑا غرق کرتے ہیں۔ اگر گھر میں کوئی پالتو جانور ہے، تو اس بے چارے کی خیر نہیں۔ بچوں کے والدین تو باتوں میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی حرکات پر توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ یہ صورت حال اہل خانہ کے لیے بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔ مہمانوں کے جانے کے بعد بہت سی چیزیں اپنی اصل جگہ سے ہٹ چکی ہوتی ہیں اور صفائی میں بھی بہت وقت لگ جاتا ہے جس پر میزبان کا بڑبڑانا، تو بنتا ہے۔

ایسی صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ملنے جلنے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے یا ہونا نہیں چاہتے۔ اپنے میزبان کی سہولت اور آسانی کو بالکل مدنظر نہیں رکھتے۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہتے ہیں، کیچڑ بھرے جوتوں سمیت آپ کے قالین پر چہل قدمی کرتے ہیں۔ بغیر پوچھے آپ کی الماریاں کھولتے اور ہر چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

آپ اپنی سہولت کے حساب سے جہاں انھیں بٹھاتے ہیں وہاں سے اٹھ کربڑی بے تکلفی سے کسی اور کمرے میں چل پڑتے ہیں اور وہاں بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے اور آپ کے صبر کا امتحان لیتے رہتے ہیں۔ ایسے مہمانوں کا ایک علاج تو یہ ہے کہ آپ انھیں کسی بحث میں الجھا دیں یا پھر اگر ہمت ہے، تو ان پر صاف صاف واضح کر دیں کہ آپ ایسی حرکات کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔
یہاں تک تو خواتین کی مشکلات تھیں مگر مردحضرات بھی اس مصیبت سے محفوظ نہیں۔ آپ کے دوست بغیر بتائے آپ کے دفتر پہنچ جاتے ہیں کہ ’’ادھر سے گزر رہا تھا سوچا چلو یار ذرا حال چال پوچھ لیں۔ اور پھر حال چال پوچھنا اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ آپ کو اپنا کام اوورٹائم لگا کر یا گھر لے جا کر پورا کرنا پڑتا ہے۔
بعض اَن چاہے مہمان یا ملاقاتی کسی بات پر خوامخواہ ہی بحث شروع کر دیتے ہیں جن کے بارے میں انھیں خود کوئی معلومات نہیں ہوتیں۔ ان کی کج بحثی طبیعت کو مکدر کر دیتی ہے اور بعض افراد تو بولتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط سے کام نہیں لیتے جو دوسروں کی دل آزاری کا سبب بن جاتے ہیں۔ مثلاً ایک خاتون کی دوست سرطان کی مریض تھیں۔ وہ انھیں ملنے گئیں تو چھوٹتے ہی بولیں ’’آج تو میں خاص طور پر وقت نکال کر آئی ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے شاید پھر میں تمھیں نہ دیکھ سکوں۔‘‘ صرف یہیں نہیں اکثر افراد ایسے ہی ہیں جو دوسروں کے جذبات کا احساس کیے بغیر جو جی میں آیا بول دیتے ہیں اور تعلقات میں کھٹاس پیدا ہو جاتی ہے۔
آپ صبح دیر سے اٹھنے کے عادی ہیں۔ سات بجے فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری طرف آپ کا دوست یا رشتے دار جو ناشتے پر آپ سے گپ شپ کے موڈ میں ہے۔ گویا لوگ اپنی تفریح طبع کے لیے دوسروں کا آرام خراب کرنا معیوب نہیں سمجھتے۔
دوسرے تو دوسرے بعض اوقات گھر میں بوڑھے اور دوسرے فارغ افراد اس بات کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی خوشی کے لیے دوسروں کا آرام یا کام خراب کر رہے ہیں۔ ہر بات کی ٹوہ رکھنا، ہر وقت باتیں کرنے کا شوق یا دوسروں کی ذاتی مصروفیات میں گھسنے کی کوشش تعلقات میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔
لہٰذا یہ سوچنا پڑے گا اس لاعلمی کا کیا علاج؟ جو آپ کے اردگرد آپ کے امیج کو خراب اور تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کا باعث ہو۔ ہم سب کو اپنی عادتوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہماری کون سی حرکت دوسروں کو ناگوار گزر سکتی ہے اور دوسرے لوگ ہم سے کیا توقع کرتے ہیں؟ ہمیں اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھ کر دوسروں پر ایسے ریمارکس دینے سے گریز کرنا چاہیے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو اور باہمی تعلقات متاثر ہو جائیں۔ دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کی خواہشات کا خیال رکھیں۔
ہم جن سے شدید محبت کرتے ہیں وہ ہوں یا شوہر بیوی اور بچے ہوں ہم دوسروں کی ضروریات اور جذبات سے باخبر رہے بغیر اپنے باہمی تعلقات کو نارمل یا خوشگوار نہیں رکھ سکتے۔ رشتوں کو خوش رکھے بغیر ہمیں بھی خوشی نہیں مل سکتی۔ یہی اصول گھر سے باہر کے ملنے جلنے افراد اور دوست احباب کے لیے ہے۔ بلکہ دوستوں اور سسرالی رشتے داروں کے ساتھ اور بھی احتیاط کی ضرورت ہے کہ وہ خونی رشتے نہیں ہوتے ان سے تعلقات خوشگوار رکھنا ہمار ی کوششوں پر منحصر ہوتا ہے اور ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے اتنے بڑے بڑے ہمدرد اور خوبصورت رشتے قربان نہیں کرنے چاہئیں۔ یاد رکھیے رشتے اور دوستیاں پودوں کی طرح ہوتے ہیں ان کی آبیاری حسبِ ضرورت نہ کی جائے، تو وہ سوکھ کر مرجھا جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔
published in Urdu digest december 2015

Comments

Popular posts from this blog

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں عافیہ مقبول جہانگیر بچہ کسی ملک یا کسی بھی طبقے کا ہو اس کی کچھ جبلی عادات ہمیشہ اور ہر دور میں ایک سی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم جو کھیل بچپن میں خود کھیل چکے ہوتے ہیں اس کی خواہش ہم اپنے بچوں میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کھیل جو ہر خطہ زمین کے بچوں میں مشترکہ طور پر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہے گیلی مٹی سے مختلف اشیا بنا کر کھیلنا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ سب بچوں کا مرغوب ترین اور پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ گیلی مٹی کا لمس اور پھر اسے اپنی مرضی کی شکل دے لینے میں کامیابی بچے کو عجیب سی لذت اور خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔  اکثر بچے تو مٹی سے طرح طرح کے کھلونے اور چیزیں بنانے میں اتنے مگن اور محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز خود کلامی کرتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد خیالی دنیا بسا کر محویت میں مبہم سی آوازیں نکالتے اور مسکراتے ہیں جو اس وقت ان کی طمانیت کو صاف ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات آپ نے کھیلتے ہوئے بچے کے منہ سے رالیں بہتی بھی دیکھی ہوں گی۔ یہ سب اس کی خوشی اور طمانیت کا اظہار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ مٹی سے کھ...

ڈاکٹر رُتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے عافیہ مقبول جہانگیر ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میںوہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ ...

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس اپنی ناکامی پر قسمت کو موردِالزام ٹھہرانے والوں کے لیے ایک پُرسوچ تحریر عافیہ مقبول جہانگیر واضح فرق ہے کہ برائی بہت جلد پھیلتی ہے جبکہ نیکی کا راستہ بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ منفی رحجانات‘ خیالات تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اچھائی کو کچھ وقت لگتا ہے۔ انہی منفی رحجانات میں سب سے اہم رحجان دوسروں سے لاتعلقی اور ہر جگہ صرف اپنے آپ کو اہم سمجھنا،’’میں‘‘،’’مجھے‘‘ اور ’’میرا‘‘جیسے خودغرضانہ اصول پر کاربند رہنا ہے۔اور اگر غور کریں تو یہی سب سے بڑی وجہ ہے ناکامی کی۔ہم ہر جگہ کامیاب ہونا اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،ہم اکیلے ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن نہیں۔کیونکہ کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔اور ہمیں  کوئی انسان سہارا تبھی دے گا جب ہم اپنے خود ساختہ’’میں‘‘کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بھی مدد کریں اور ان کو بھی سہارا دے کر ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ایک خودغرض انسان ایک آدھ بار اتفاقیہ طور پر تو شاید کامیابی حاصل کر لے مگر مستقل بنیادوں پر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی ...