Skip to main content

Posts

Showing posts with the label پرورش

انوکھا لاڈلا

پرورش سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا۔۔۔ زندگی کیا ہے،محبت کی زباں سے سُنیے عافیہ مقبول جہانگیر ساتھ والے گھر سے پھر جھگڑے اور بحث کی آوازیں آرہی تھیں اور میرا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔اُن آوازوں سے نہیں بلکہ موضوع بحث کی وجہ سے۔آج بھی حسبِ معمول میاں بیوی کا موضوع سخن وہ ننھا آٹھ سالہ ولید تھا جو کبھی اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا ہوا کرتا تھا۔ پانچ سال تک وہ گھر بھر کا لاڈلا رہا مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت آشکارا ہوتی گئی کہ وہ ٹھیک سے بول نہیں پاتا۔ اُسے الفاظ کی ادائیگی میں دقت کا سامنا تھا اور نہ ہی اس کا ذہن عام بچوں کی طرح نشوونماپا رہا تھا۔ماں باپ کی اُمیدوں پر اوس پڑ گئی اور آہستہ آہستہ وہ اُن تمام ناز نخروں سے محروم کر دیا گیا جن پہ اُس کا حق تھا۔ اب وہ کسی ان چاہی چیز کی طرح گھر کے ایک کونے میں گند سے سنا ہوا پڑا رہتا۔وہ اپنے ماں باپ کی منت مرادوں سے مانگی دعا کا وہ ثمر تھا جو اُنہیں اِس روپ میں قبول ہی نہ تھا۔گویا اُنہیں بس کھیلنے کے لیے ایک کھلونا چاہیے تھا،اور جب وہ مطلب کا نہ ملا تو کسی کونے میں ڈال دیا۔اُنہوں نے ایک ایسے بچے کی دعا کی ...

پرورش

پرورش عافیہ مقبول جہانگیر کوئی بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو موروثی، خاندانی عادات و اطوار کے علاوہ اپنی انفرادی اور ذاتی خصوصیات وخصائل بھی ساتھ لاتا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ ماں باپ بچے کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال کر پرورش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی اٹھان اپنی پسندیدہ طرز سے ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی مرضی کے الفاظ سکھائے جاتے ہیں۔ اس کی حرکات و سکنات کو اپنی خواہش کے مطابق کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پھر بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اسے اپنی ہی پسندیدہ درس گاہ میں تعلیم دلوائی جاتی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ بچے کا رجحان کس طرف ہے، اس کے مضامین اور پیشے کے اختیار کرنے میں بھی ماں باپ کی خواہشات کا دبائو بچے پر بہت زیادہ ہوتا ہے اور اکثر ہوتا یوں ہے کہ بچے کے رجحانات کے خلاف اسے تعلیمی میدان منتخب کرنا پڑتا ہے جس کا نتیجہ عموماً جب ناکامی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو اولاد پر نالائق، نکما اور نافرمان ہونے کا الزام لگ جاتا اور اس سے ہزار شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔اکثر بچے سن بلوغت تک پہنچتے ہی بغاوت پر اتر آتے ہیں دوسری طرف ماں باپ رنجیدہ ہو کر اولاد سے بددل ہو جاتے ہیں۔ماں باپ تھوڑا سا صبروت...

ہکلاپن

ہکلاپن بچوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے عافیہ مقبول جہانگیر شروع میں بچہ جب کبھی ہکلاتا ہے تو پتا نہیں چلتا۔ کیونکہ تب بچہ بولنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا اتنا محسوس نہیں ہوتا اور آہستہ آہستہ بچہ مکمل الفاظ بولنا سیکھ لیتا ہے۔ لیکن کچھ بچوں میں یہ ہکلاپن زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے اور کبھی بالکل بھی نہیں ہوتا۔ شروع میں بولنے سے پہلے بچہ کسی لفظ پر اٹکتا ہے اور اس لفظ کو کئی بار دہراتا ہے۔ یا آدھا لفظ باربار بولتا ہے۔ کئی دفعہ ایک خاص لفظ پر بہت زور دیتا ہے۔ کبھی ایک دم رک جاتا ہے۔ بعد میں منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا اور بچہ اِدھراُدھر دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔  عام طور پر ہکلاپن دو اور چار سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔ سر میں کوئی سخت چوٹ لگنے سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں تقریباً چار کروڑ لوگ ہکلے پن کا شکار ہیں۔ ہکلاپن موروثی بھی ہو سکتا ہے۔ اسکول جانے کی عمر سے پہلے کی عمر میں ہکلاپن زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں بڑے ہو کر کم ہو جاتا ہے۔ ہکلاپن کے مریض بچوں کو بہت احساسِ کمتری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا کے بہت سے نامور لوگ ...

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں عافیہ مقبول جہانگیر بچہ کسی ملک یا کسی بھی طبقے کا ہو اس کی کچھ جبلی عادات ہمیشہ اور ہر دور میں ایک سی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم جو کھیل بچپن میں خود کھیل چکے ہوتے ہیں اس کی خواہش ہم اپنے بچوں میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کھیل جو ہر خطہ زمین کے بچوں میں مشترکہ طور پر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہے گیلی مٹی سے مختلف اشیا بنا کر کھیلنا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ سب بچوں کا مرغوب ترین اور پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ گیلی مٹی کا لمس اور پھر اسے اپنی مرضی کی شکل دے لینے میں کامیابی بچے کو عجیب سی لذت اور خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔  اکثر بچے تو مٹی سے طرح طرح کے کھلونے اور چیزیں بنانے میں اتنے مگن اور محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز خود کلامی کرتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد خیالی دنیا بسا کر محویت میں مبہم سی آوازیں نکالتے اور مسکراتے ہیں جو اس وقت ان کی طمانیت کو صاف ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات آپ نے کھیلتے ہوئے بچے کے منہ سے رالیں بہتی بھی دیکھی ہوں گی۔ یہ سب اس کی خوشی اور طمانیت کا اظہار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ مٹی سے کھ...