Skip to main content

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں




بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں

عافیہ مقبول جہانگیر

بچہ کسی ملک یا کسی بھی طبقے کا ہو اس کی کچھ جبلی عادات ہمیشہ اور ہر دور میں ایک سی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم جو کھیل بچپن میں خود کھیل چکے ہوتے ہیں اس کی خواہش ہم اپنے بچوں میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کھیل جو ہر خطہ زمین کے بچوں میں مشترکہ طور پر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہے گیلی مٹی سے مختلف اشیا بنا کر کھیلنا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ سب بچوں کا مرغوب ترین اور پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ گیلی مٹی کا لمس اور پھر اسے اپنی مرضی کی شکل دے لینے میں کامیابی بچے کو عجیب سی لذت اور خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔



 اکثر بچے تو مٹی سے طرح طرح کے کھلونے اور چیزیں بنانے میں اتنے مگن اور محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز خود کلامی کرتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد خیالی دنیا بسا کر محویت میں مبہم سی آوازیں نکالتے اور مسکراتے ہیں جو اس وقت ان کی طمانیت کو صاف ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات آپ نے کھیلتے ہوئے بچے کے منہ سے رالیں بہتی بھی دیکھی ہوں گی۔ یہ سب اس کی خوشی اور طمانیت کا اظہار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ مٹی سے کھیلنا بچے کے لیے بہت نقصان دہ ہے، کئی بیماریوں کے جراثیم اور انفیکشن ان کی ننھی سی جان کو روگ لگا سکتے ہیں جن میں اسہال، پیٹ کی خرابی، کیڑے اور ٹیٹنس جیسی خوف ناک بیماریوں کے انفیکشن ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جونہی کوئی پڑھی لکھی ماں اپنے بچے کو مٹی سے کھیلتے دیکھتی ہے تو پاگلوں کی طرح چیخنے چلانے لگتی ہے۔ بچے کو گھسیٹ کر بلکہ دوچار تھپڑ لگا کر اس کی محبوب متاع یعنی مٹی اٹھا کر پرے پھینکتی ہے اور اسے گھسیٹتی ہوئی باتھ روم تک لے جاتی ہے۔
 بچہ اپنی خوبصورت دنیا سے بچھڑ کر روتا دھوتا اور چیختا چلاتا رہ جاتا ہے۔تاہم اب جدید دور میں دیگر آسائشوں اور سہولتوں کی طرح بچوں کے اس محبوب کھیل کے لیے بھی ’’پلے رنگ ڈو‘‘ کے نام سے مختلف رنگوںمیں خوشنما ڈبوں میں بند پلاسٹک کی ’’مٹی‘‘ کے لوندے بازار میں بکتے ہیں۔ جسے خوشحال ماں باپ تو اپنے بچوں کو خرید کر دے سکتے ہیں لیکن متوسط اور غریب اور زیادہ بچوں والے والدین مہنگائی کے اس دور میں بچوں کی یہ آسائش یعنی ’’چونچلے‘‘ پورے نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے بچہ ایک دلچسپ کھیل اور بڑی خوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ گیلی مٹی سے کھیل نہ صرف بچے کو وقتی آسودگی فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے اور اس میں آگے چل کر بڑا آرٹسٹ اور تخلیقی کام کرنے والا کوئی بھی اچھا پروفیشنلسٹ بنا سکتا ہے۔ اس کا وقتی اور فوری فائدہ تو ماؤں کو یہ بھی ہے کہ بچے کا وقت اچھا گزرتا ہے اور ماؤں کو اتنی فراغت مل جاتی ہے کہ وہ گھر کے باقی کام سکون اور اطمینان سے انجام دے سکیں۔ یوں بھی روتا اور چڑچڑاتا ہوا بچہ گھر بھر کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ خود بھی بے سکون رہتا ہے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ 

جس گھر میں ایک چھوٹا بچہ چیخ رہا ہو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ دیگر افراد اپنی مصروفیات یکسوئی سے جاری نہیں رکھ سکتے۔ بلکہ گھر بھر کی نظریں اسی بچے پر لگی رہتی ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو پڑوسی بھی آ کر پوچھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بچہ کیوں رو رہا ہے؟ اگرچہ انھیں بچے سے دلچسپی نہیں ہوتی بلکہ جھلاہٹ اپنے ڈسٹرب ہونے سے ہو رہی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم ایسی ماؤں کو گھر میں حفظان صحت کے عین مطابق محفوظ اور غیرضرررساں ’’پلے ڈو‘‘ یعنی گیلی مٹی کا متبادل بنانے کا طریقہ بتاتے ہیں۔ اس سے آپ کا بچہ نہ صرف مصروف رہے گا بلکہ مسرور اور شاداں ہو کر جب وہ پوری طرح کھیل چکے گا تو خوب سیر ہو کر اپنی خوراک لے گا اور بہت سکون کی نیند سوئے گا۔ آئیے ’’پلے ڈو‘‘ بنائیں۔ اس کے لیے تمام چیزیں آپ کو اپنے کچن سے مل جائیں گی۔ اگر بچہ تھوڑا چھوٹا ہے تو وہ ذرا نرم اور پلپلا ڈو پسند کرے گا تاکہ اس کی نرم و نازک انگلیاں اس کو اپنی مرضی کے مطابق الٹ پلٹ کر دبا سکیں۔ حتیٰ کہ ہاتھوں اور منہ پر لتھیڑ بھی سکیں کیونکہ یہ بھی بچوں کو اچھا لگتا ہے۔ کیونکہ جب تک بچہ اپنے آپ کو لت پت نہ کر لے اسے مزہ ہی نہیں آتا اور اس کا کھیل مکمل نہیں ہوتا۔ تو ۔۔۔

آئیے ڈو بنائیں تقریباً آدھا کلومیدہ لے کر اس میں تھوڑا سا پکانے کا تیل شامل کریں پھر اسے حسبِ ضرورت پانی سے گوندھ لیں۔ ایک رنگ میں بنانا ہو تو کھانے کا کوئی بھی رنگ استعمال کر سکتی ہیں، مثلاً ہلدی، یا زردہ رنگ اور اگر زیادہ رنگوں میں بنانا ہو تو تھوڑا تھوڑا تقسیم کر کے دو تین مختلف رنگ ملا دیں۔
اگر ماربل کلر دینا چاہیں، تو سارے رنگوں کے ملائے ہوئے میدے کو ملا کر تھوڑا سا گوندھ دیں۔ جگہ جگہ مختلف رنگ نظر آئیں گے اور بچے کے توڑنے مروڑنے سے خودبخود کئی ڈیزائن بن جائیں گے۔ جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوگا۔ یاد رکھیں چھوٹے بچوں کے لیے ذرا نرم اور بڑے یعنی تین چار سال کے بچوں کے لیے ذرا سخت رکھیں۔ اگر آپ خطرہ محسوس کریں کہ چھوٹا بچہ ہر چیز کو اپنے منہ میں ڈالنے کا رجحان رکھتا ہے تو آپ اس میں ذرا زیادہ سا نمک ملا دیں۔ بچے بہت زیادہ نمک پسند نہیں کرتے وہ منہ میں نہیں ڈالے گا۔ یہ بے ضرر رنگین ’’ڈو‘‘ آپ کسی پلاسٹک کے ڈبے میں تیار کر کے فریج میں بھی رکھ سکتی ہیں۔
published in urdu digest january 2016

Comments

Popular posts from this blog

ڈاکٹر رُتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے عافیہ مقبول جہانگیر ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میںوہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ ...

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس اپنی ناکامی پر قسمت کو موردِالزام ٹھہرانے والوں کے لیے ایک پُرسوچ تحریر عافیہ مقبول جہانگیر واضح فرق ہے کہ برائی بہت جلد پھیلتی ہے جبکہ نیکی کا راستہ بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ منفی رحجانات‘ خیالات تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اچھائی کو کچھ وقت لگتا ہے۔ انہی منفی رحجانات میں سب سے اہم رحجان دوسروں سے لاتعلقی اور ہر جگہ صرف اپنے آپ کو اہم سمجھنا،’’میں‘‘،’’مجھے‘‘ اور ’’میرا‘‘جیسے خودغرضانہ اصول پر کاربند رہنا ہے۔اور اگر غور کریں تو یہی سب سے بڑی وجہ ہے ناکامی کی۔ہم ہر جگہ کامیاب ہونا اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،ہم اکیلے ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن نہیں۔کیونکہ کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔اور ہمیں  کوئی انسان سہارا تبھی دے گا جب ہم اپنے خود ساختہ’’میں‘‘کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بھی مدد کریں اور ان کو بھی سہارا دے کر ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ایک خودغرض انسان ایک آدھ بار اتفاقیہ طور پر تو شاید کامیابی حاصل کر لے مگر مستقل بنیادوں پر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی ...