منفی جذبات و خیالات آپ کو بیمار کر سکتے ہیں! عافیہ مقبول جہانگیر مدتوںسے یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک صحت مند جسم ہی صحت مند ذہن کا ضامن ہو سکتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی کسی حد تک بدلتا جا رہا ہے۔ آج کل تقریباً ہر اچھا معالج مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے اس کی ذہنی کیفیات کا اندازہ ضرور لگاتا ہے اور مختلف سوالات پوچھ کر اس کی تکلیف کا بہتر تعین کر سکتا ہے۔ کیونکہ آج کل بیشتر بیماریاں انسان کی ذہنی کیفیات، جذباتی کشمکش اور معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ ذہنی کیفیات بھی معاشرتی اور سماجی ناہمواریوں کے باعث پیدا ہو رہی ہیں۔ ایک ماہر ڈاکٹر کے اندازے کے مطابق کسی بھی معالج کے مطب میں آنے والے مریضوں میں ۷۵ فی صد ایسے ہوتے ہیں جن کی بیماری کی وجوہات ان کی ذہنی کیفیات اور جذباتی اتارچڑھاؤسے منسلک ہوتی ہیں اور کوئی معالج ان کو اس وقت تک صحت مند نہیں کر سکتا جب تک مریض کی ذہنی کیفیات یا جذبات کو نارمل نہ کیا جائے۔ بالکل اسی طرح صحت مند جذبات اور ہموار ذہنی کیفیات انسان کو جسمانی طور پر تندرست و توانا رکھنے میں بہت اہم کردار...
My blog, My beautiful world