Skip to main content

negative thoughts|منفی خیالات


منفی جذبات و خیالات  آپ کو بیمار کر سکتے ہیں!

عافیہ مقبول جہانگیر

مدتوںسے یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک صحت مند جسم ہی صحت مند ذہن کا ضامن ہو سکتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی کسی حد تک بدلتا جا رہا ہے۔ آج کل تقریباً ہر اچھا معالج مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے اس کی ذہنی کیفیات کا اندازہ ضرور لگاتا ہے اور مختلف سوالات پوچھ کر اس کی تکلیف کا بہتر تعین کر سکتا ہے۔ کیونکہ آج کل بیشتر بیماریاں انسان کی ذہنی کیفیات، جذباتی کشمکش اور معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ ذہنی کیفیات بھی معاشرتی اور سماجی ناہمواریوں کے باعث پیدا ہو رہی ہیں۔ ایک ماہر ڈاکٹر کے اندازے کے مطابق کسی بھی معالج کے مطب میں آنے والے مریضوں میں ۷۵ فی صد ایسے ہوتے ہیں جن کی بیماری کی وجوہات ان کی ذہنی کیفیات اور جذباتی اتارچڑھاؤسے منسلک ہوتی ہیں اور کوئی معالج ان کو اس وقت تک صحت مند نہیں کر سکتا جب تک مریض کی ذہنی کیفیات یا جذبات کو نارمل نہ کیا جائے۔ 


بالکل اسی طرح صحت مند جذبات اور ہموار ذہنی کیفیات انسان کو جسمانی طور پر تندرست و توانا رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر مریض خود اپنی قوت ارادی سے اپنی جذباتی کیفیت کو منفی رخ پر چلنے سے روک سکے، تو وہ جلد ہی صحت مند جسم کے ساتھ زندگی کا صحیح لطف اٹھانے کے قابل ہو سکتا ہے۔ امید، محبت، یقین اور مثبت سوچ نامعلوم طریقے سے جسمانی نظام میں ایسی تبدیلیاں لاتے ہیں جو صحت منداور نارمل زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ایسے ہی احساس جرم، غصہ، تلخی اور مایوسی کئی بیماریوں کی جڑ ہیں۔ ایک مشہور مغربی معالج و رنوم کوسمین کا کہنا ہے کہ ’’دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی جسم پر اس کے ذہن سے زیادہ اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔‘‘ آپ جس طریقے سے سوچتے ہیں اور اپنی زندگی کے مسائل، دباؤ، تناؤ اور پریشانیوں کو جس طرح اپنی شخصیت پر وارد کرتے ہیں۔ اسی کا منفی یا مثبت اثر واضح طور پر آپ کے دل، دماغ، نظام تنفس، نظام ہضم اور نظام دوران خون کے علاوہ جسم کے ہر حصے پر مرتب ہوتا ہے۔ گویا آپ کی سوچ ہی ان بے زبان اعضا کو مصیبت میں مبتلا کر سکتی ہے یا مصیبت سے نکال سکتی ہے۔ یہ آپ کے ذہن کی کیفیت ہی ہے جو آپ کی بیماری کی نوعیت کا تعین کرتی اور طے کرتی ہے کہ آپ کو کتنا عرصہ زندہ رہنا ہے۔



مردوںکی نسبت عورتیں زیادہ جذباتی واقع ہوئی ہیں۔ اس لیے جذباتی دباؤسے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ جن میں میگرین یعنی دردشقیقہ، جلدی بیماریاں یعنی الرجی، دھپڑ، خراشیں اور چھائیاں وغیرہ۔ اس کے علاوہ دمہ اور ناقابل بیان قسم کی تھکاوٹ بھی شامل ہیں۔
لہٰذا یہ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ صحت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں، تو اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھیے۔ اس حقیقت کی مزید وضاحت کے لیے اسپتالوں میں ایک بیماری کے مختلف مریضوں کی صحت یابی کی رفتار دیکھ کر کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایک ہی وارڈ میں ایک ہی بیماری میں مبتلا افراد کی صحت یابی کی رفتار مختلف کیوں ہوتی ہے؟ اگر ہم ان کے اردگرد نظر دوڑائیں ان کے ملاقاتیوں اور دیکھ بھال کرنے والے افراد کا جائزہ لیں، تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ مریض دوسروں سے محبت کرتے ہیں یا دوسرے ان سے محبت کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ ان میں صحت یابی کی امنگ اور خواہش ہوتی ہے جو انھیں جلد صحت یابی کا راستہ دکھا دیتی ہے۔ مثلاً ہمارے مشاہدے میں ایک بیوہ اور تنہا رہنے والی خاتون مسز خان کی مثال ہے جو دس برس سے اپنے فلیٹ میں تنہا رہ رہی تھیں۔ ان کی ایک بیٹی اور بیٹا بیرون ملک اپنے اپنے گھروں میں ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ جن کی طرف سے کبھی کبھار کوئی فون، خط یا کسی آنے جانے والے کے ہاتھ چھوٹا موٹا تحفہ آ جاتا تھا۔ انھیں اچانک ایک شام دل کا دورہ پڑا۔ قریبی ہمسائے انھیں اسپتال لے گئے اور جتنی خدمت اور دل جوئی کر سکتے تھے کرتے رہے۔ ان کے بچوں کو بھی اطلاع کر دی گئی، لیکن مسز خان اپنی صحت اور زندگی کی طرف سے انتہائی بددلی کا شکار تھیں ان کا رویہ انتہائی مایوس کن اور پژمردہ تھا کہ اچانک ان کے بیٹے کا فون آ گیا اس نے کہا ’’ممی ہم چاہتے ہیں کہ اب کچھ عرصہ آپ ہمارے پاس آ کر رہیں۔ بچے اپنی دادی جان سے کہانیاں سننے کے بہت شوقین ہیں اور آپ کی بہو تو کہہ رہی تھی کہ ممی کو اب ہمیں بھی خدمت کا موقع دینا چاہیے۔ وہ آ جائیں گی، تو گھر میں خوب رونق ہو گی اور ان کی دعاؤں سے ہمارے گھر میں خیروبرکت آ جائے گی۔ میں آپ کو ٹکٹ بھیج رہا ہوں، آپ جلدی سے سفر کے قابل ہو جائیے۔‘‘ فون سننے کے بعد مسز خان کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور ڈاکٹروں نے دیکھا کہ ان کی صحت میں اچانک بہتری آنی شروع ہو گئی اور وہ جو سر اٹھاتے ہوئے بھی نڈھال ہو کر ٹھنڈی آہیں بھرتی تھیں اب چار دن کے بعد اٹھ کر اپنا سامان پیک کرنے کی سوچ رہی تھیں۔ یقینا ان معمر خاتون کی صحت مندی میں ان کی جذباتی کیفیت کا دخل تھا۔ جس دل میں پہلے تنہائی ڈپریشن اور بلاضرورت جینے کی سوچ سمائی ہوئی تھی اب چاہے جانے اور محبت کی سرشاری سے پُر تھا۔ لہٰذا وہ اتنی حیران کن حد تک جلد روبصحت ہوئیں کہ ان کے معالج حیران رہ گئے۔
بالکل اسی طرح ازدواجی زندگی کا کسی بھی وجہ سے اچانک خاتمہ بھی ذہنی کیفیات کو تباہ کن حد تک متاثر کرتا ہے جو آخر بیماری پر منتج ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ایک لڑکی جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ڈپریشن میں چلی جائے گی، تو دوسری غضب ناک حد تک غصیل ہو کر ذہنی مریض لگے گی۔ تیسری شرمندگی اور تنہائی میں کھو کر صحت خراب کرے گی، تو چوتھی کی بھوک اڑ جائے گی یا ’’انسومنیا‘‘ کا شکار ہو جائے گی۔ اور ہو سکتا ہے انہی حالات میں کسی عورت کو کچھ بھی نہ ہو اور وہ پہلے سے زیادہ صحت مند اور خوش باش ہو جائے۔ یہ سب ذہنی سوچ کی سمت کا فرق ہے کہ کون کس طرح سوچتا ہے۔ کسی بھی منفی تبدیلی کو کس طرح قبول کر کے چیلنج کا سامنا کرتا ہے۔
کئی مشہور ہستیوں کی مثالیں موجود ہیں۔ جن میں ایکٹریس اور دیگر شعبہ زندگی کی شخصیات کی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے خود اعتراف کیا کہ وہ جذباتی دباؤاور منفی کیفیات کی بدولت ’’اینوریکسیا‘‘ بولیمیا ’’فوبیا‘‘ جیسی بیماریوں کا شکار ہو کر تنہائی کی زندگی میں دنیا سے سدھار گئیں۔
ماہرین طب کے مطابق منفی جذبات انسانی دماغ کے اس حصے پر اثرانداز ہوتے ہیں جو ہارمونز کی افزائش کو کنٹرول کرتا ہے جس کی وجہ سے منفی جذبات حساس لوگوں میں صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکثر امتحانات سے پہلے ’’اینگزائٹی‘‘ کی وجہ سے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ جن میں بخار، سردرد اور متلی نمایاں طور پر دیکھنے میں آتی ہے۔
جبکہ ایک اور بڑی مثال ہمارے ہاں دیکھی جا سکتی ہے کہ شادی شدہ گھریلو خواتین جب میکے ہوتی ہیں، تو بھلی چنگی ہوتی ہیں۔ جونہی وہ سسرالی گھر میں قدم رکھتی ہیں، تو کئی قسم کے عوارض نمودار ہو جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے صاف ظاہر ہے کہ نفسیاتی دباؤ اور ذہنی کیفیات کا مسئلہ ہوتا ہے۔
اسی طرح ہمارے گاؤں گوٹھ کی لڑکیاں ماحول کی گھٹن اور کتھارسس کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے ہسٹیریا اور دیگر جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جنہیں جن بھوت یا جادو ٹونہ سمجھ کر جھاڑ پھونک ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ کچھ خواتین دوران حمل اتنی خوف زدہ رہتی ہیں کہ انھیں بے شمار بیماریاں اپنے اندر پنپتے ہوئے محسوس ہوتی ہیں۔ مختلف قسم کے خوف انھیں واقعی کئی بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
قصہ مختصر ہم کسی بھی مریض کی بیماری کا جائزہ لیں، تو اس کی بیماری کے پیچھے جذباتی یا ذہنی کیفیات کا عمل دخل نظر آئے گا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر آپ ایگزیما، بلڈپریشر، دمہ یا آدھے سر کے درد میں مبتلا ہیں، تو پوری غیرجانبداری سے اپنے جذبات اور ذہنی کیفیات کا جائزہ لیں اور جب آپ اپنے اندر چھپے چور کو پکڑ لیں، تو اپنی زندگی، صحت اور سلامتی کی خاطر صحت مند سرگرمیوں سے اس پر قابو پائیں اور دواؤں کا سہارا چھوڑ کر عبادات، مذہبی لٹریچر، ورزش، ہلکی پھلکی سیر اور اچھے دوستوں کی کمپنی سے اپنے اندر ہمت اور مثبت سوچ کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ دوسروں سے محبت کریں جواب میں محبت ملے گی۔ آپ لمبی اور صحت مند زندگی پائیں گے۔ ان شااللہ۔
published in urdu digest november 2015

Comments

Popular posts from this blog

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں عافیہ مقبول جہانگیر بچہ کسی ملک یا کسی بھی طبقے کا ہو اس کی کچھ جبلی عادات ہمیشہ اور ہر دور میں ایک سی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم جو کھیل بچپن میں خود کھیل چکے ہوتے ہیں اس کی خواہش ہم اپنے بچوں میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کھیل جو ہر خطہ زمین کے بچوں میں مشترکہ طور پر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہے گیلی مٹی سے مختلف اشیا بنا کر کھیلنا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ سب بچوں کا مرغوب ترین اور پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ گیلی مٹی کا لمس اور پھر اسے اپنی مرضی کی شکل دے لینے میں کامیابی بچے کو عجیب سی لذت اور خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔  اکثر بچے تو مٹی سے طرح طرح کے کھلونے اور چیزیں بنانے میں اتنے مگن اور محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز خود کلامی کرتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد خیالی دنیا بسا کر محویت میں مبہم سی آوازیں نکالتے اور مسکراتے ہیں جو اس وقت ان کی طمانیت کو صاف ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات آپ نے کھیلتے ہوئے بچے کے منہ سے رالیں بہتی بھی دیکھی ہوں گی۔ یہ سب اس کی خوشی اور طمانیت کا اظہار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ مٹی سے کھ...

ڈاکٹر رُتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے عافیہ مقبول جہانگیر ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میںوہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ ...

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس اپنی ناکامی پر قسمت کو موردِالزام ٹھہرانے والوں کے لیے ایک پُرسوچ تحریر عافیہ مقبول جہانگیر واضح فرق ہے کہ برائی بہت جلد پھیلتی ہے جبکہ نیکی کا راستہ بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ منفی رحجانات‘ خیالات تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اچھائی کو کچھ وقت لگتا ہے۔ انہی منفی رحجانات میں سب سے اہم رحجان دوسروں سے لاتعلقی اور ہر جگہ صرف اپنے آپ کو اہم سمجھنا،’’میں‘‘،’’مجھے‘‘ اور ’’میرا‘‘جیسے خودغرضانہ اصول پر کاربند رہنا ہے۔اور اگر غور کریں تو یہی سب سے بڑی وجہ ہے ناکامی کی۔ہم ہر جگہ کامیاب ہونا اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،ہم اکیلے ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن نہیں۔کیونکہ کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔اور ہمیں  کوئی انسان سہارا تبھی دے گا جب ہم اپنے خود ساختہ’’میں‘‘کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بھی مدد کریں اور ان کو بھی سہارا دے کر ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ایک خودغرض انسان ایک آدھ بار اتفاقیہ طور پر تو شاید کامیابی حاصل کر لے مگر مستقل بنیادوں پر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی ...