Skip to main content

اپنے ہوئے پرائے


اپنے ہوئے پرائے
امیری اور غریبی کے فرق نے خونی رشتوں میں بھی دراڑیں ڈال دیں


عافیہ مقبول جہانگیر



انسان اگرچہ سماجی حیوان ہے اور مل جل کر رہنا ایک سماج، ایک معاشرے میں اس کی اقدار کا پابند رہ کر زندگی بسر کرنا اس کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں بھی مختلف طبقات اور ان کی الگ الگ اقدار کا اپنا اپنا حلقہ ہوتا ہے اور وہ طبقے جنم جنم سے اسی محور پر چلتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل لگن محنت اور اتفاقی واقعات کی بدولت غریب اور متوسط طبقے کے کچھ افرادیہ طبقاتی فرق تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس میں ایڈجسٹ کرنے اور اس کے طور طریقے اپنانے میں بھی خاصا وقت درکار ہوتا ہے اور اس وجہ سے بعض اوقات انہیں ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ترقی کر کے کلاس تبدیل کرنے والے افراد کو مدت تک ’’نو دولتیے‘‘ کی چھاپ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ معاشرے کے طبقات کی طرح ایک ہی خاندان میں بھی مختلف حیثیت اور مرتبے کے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا آپس میں تعلق کمزور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو جاتاہے اور بعض اوقات تو ایک سے دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے شناسائی تک ختم ہو جاتی ہے اور ان افراد کی ملاقات محض کسی شادی بیاہ یا ہنگامی صورت حال میں ہی ہوتی ہے جو اجنبیوں ہی کی طرح شروع ہو کر اجنبیوں کی طرح ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اور خون کے رشتے محض طبقاتی فرق کی وجہ سے کیوں دم توڑ جاتے اور کمزور ہو جاتے ہیں؟ اس بارے میںجب امیر اور غریب رشتے داروں سے بات چیت کی گئی تو دونوں طرف سے شکایات کے انبار لگ گئے۔ بظاہر دونوں اپنی اپنی جگہ درست معلوم ہوئے، تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ دونوں کی شکایات درست بھی ہو سکتی ہیں لیکن اگر دینی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو زیادہ ترذمہ داری امیر عزیز رشتے دار پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سے کم حیثیت سے عزیزوں کی خبر گیری کرے اور ان کے حقوق ادا کرنے میں بخل سے کام نہ لے کہ صلہ رحمی کا سلوک نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی پر جتنا زور دیا گیا ہے اتنا کسی اور چیز پر نہیں۔ یہ جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ امیر اور غریب رشتے دار ایک دوسرے سے کیوں شاکی ہیں۔
 ایک پچپن سالہ خاتون نے بتایا کہ اس کے میاں سرکاری ملازم ہیں۔ ان کے چھ بچے ہیں۔ دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے باقی یونیورسٹی سے لے کر ہائی اسکول تک زیرِ تعلیم ہیں۔ ظاہر ہے ہوشربا مہنگائی کے اس دور میں اتنے افراد کا معمولی تنخواہ میں عزت سے گزارا کرنا اور اپنا بھرم قائم رکھناکس قدر مشکل کام ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ہمارے بچے ماشاء اللہ شکل و صورت اور سیرت میںبے مثالہیں لیکن امیر رشتے داروں نے اپنے بیٹوں کی شادیاں کرتے وقت ہمیں پوچھنا تو درکنار، دیکھنا تک گوارا نہیں کیا حالانکہ وہ جو بہوئیں بیاہ کر لائے، وہ کسی طرح بھی میری بیٹیوں سے بہتر نہیں۔چونکہ ان کے ماں باپ کھاتے پیتے اور ان کے بھائی اچھے عہدوں پر تھے اور وہ ٹرک بھر بھر کر جہیز لائیں تھیں اس لیے اس ان کی ہر خامی قیمتی جہیز  کے مخملی پردے میں چھپ گئی۔ یہ الگ بات کہ بعد میں انہی بہوؤں نے انہیں ناکوں چنے چبوادیے اور چند مہینے بعد ہی اپنے شوہروں کو لے کر الگ ہو گئیں اور جس مال و جہیز پرانہیں بہت ناز تھا، ایک ایک چیز سمیٹ کر اپنے گھروں میں لے گئیں۔اس کے برعکس اگر وہ ہمارے گھروں کی سگھڑ اور نرم مزاج لڑکیوںکو اپنی بہو بناتے  تو ان کے گھروں میں تقسیم کی دراڑ کبھی نہ پڑتی کیونکہ متوسط گھروں کی لڑکیاں نرم گرم حالات سہنے کی عادی ہوتی ہیں۔ کسی بڑے کی کڑوی بات کا جلد برا مانتیں اور نہ ہی اتنی خود سر ہوتی ہیں کہ اپنے فیصلے خود کرتی پھریں۔ لیکن ان امیر رشتے داروں کو کون سمجھائے کہ رشتے طے کرتے وقت غریب اور کم حیثیت رشتے داروں کیکو 
بھی ذہن میں رکھ لیاکریں۔ 
 اسی بارے میں جب ایک صاحب حیثیت خاتون سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا :’’ یہ بات درست ہے کہ غریب اور متوسط
 طبقے کی لڑکیاں بعض اوقات شکل و صورت اور سلیقے میں امیر گھروں کی لڑکیوں سے بہتر ہوتی ہیں لیکن ان کے ساتھ بہت مسائل بھی ہوتے ہیں۔




 ایک تو وہ بڑے گھر میں آکر ایڈجسٹ ہی نہیں کر پاتیں ۔یا تو ماحول کے فرق کو ناجائز آزادی سمجھ کر کیڑے نکالتیں اور اپنے میکے جا کر طرح طرح کے فسانے گھڑ کر سناتی ہیں اور دوسرے بعض اوقات بھری محفل میں کوئی ایسی حرکت ضرور کر دیتی ہیں جو ہمارے لیے باعث شرمندگی ہوتی ہے۔ ایک بات یہ کہ ان کیگھرانے میں چونکہ مسائلکا انبار ہوتا ہے، اس لیے وقتاً فوقتاً وہ مختلف طریقوں سے اپنے میکوں والوں کی چوری چھپے مدد کرنے کی کوشش میں بھی لگی رہتی ہیں۔ان کے چھوٹے بہن بھائی تو مستقل کسی نہ کسی بہانے سے ڈیرہ جمائے ہی رکھتے ہیں۔یہ صورتحال ہمیں ناگوار گزرتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ  ایسا ہی ہوتا ہو،اچھی لڑکیاں اور لڑکے بھی ہوتے ہیں لیکن ہم رسک کیوں لیں؟
یہ تو تھی لڑکیوں کی بات، لیکن لڑکوں کے بارے میں بھی کم و بیش ایسے ہی آراء سننے میں آئیںجن میں لڑکوں پر تنقید کی گئی۔ ایک خاتون کی بیٹی سے اس کے امیرچچا زاد نے اپنی پسند سے شادی توکر لی، لیکن وہ لڑکی کے گھر والوں سے اچھوتوںجیسا برتاؤ کرتا ہے۔ جب کبھیسسرال آئے تو کھانا چائے تو دور ،زیادہ دیر بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا۔ اس کی ہر ہر حرکت سے نخوت اور غرور ٹپکتا ہے۔ بار بار چھوٹے بچوں سے کہتا ہے کہ جاؤ باہر دیکھو ،کوئی گاڑی تو نہیں چھیڑ رہایاپھر  تنگ و چھوٹی گلی میں گاڑی چلانے اورکھڑی کرنے کی تکلیف بیان کرتا رہتا ہے۔بہترین چیز بھیپیش کریں تو نخرے ہی کرتا  اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے۔ اس کی موجودگی میں ہم سب کے ہاتھ پاؤں پھولے رہتے ہیں۔ ایسے میں ہماری بیٹی کی پریشانی دیدنی ہوتی ہے کہ کس کا ساتھ دے اور کس کا نہیں۔کبھی ہماری شرمندگی کا احساس اسے کچوکے لگاتا تو کبھی شوہر کے ماتھے کی تیوریاں ہولائے دیتی ہیں۔بڑے گھر میں بیاہی جانے کے باوجود بچی دوہرے عذاب میں 
مبتلا ہے۔




عزیز الحق ایک متوسط طبقے کے ادھیڑ عمر شہری اور ان کی کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان ہے۔ تین بیٹے اور ایک
 بیٹی ہیں۔ بیٹی کو تو میٹرک کے بعدانہوں نے بیاہ دیا، لیکن بیٹے بہت لائق اور ہونہار ہیں۔ بڑا یونیورسٹی میں، منجھلا بی ایس سی اور چھوٹا ایف ایس سی کر رہا ہے۔ وہ بڑی مشکل سے انہیں تعلیم دلوا رہے کہ وہ انہیں مستقبل میںخود سے بہتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے قریبی عزیز ماشاء اللہ بہت مال دار اور خوش حال اوران کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں،لیکن انہیں ہماری یاد صرف اس وقت آتی ہے جب ان کے گھر میں کوئی فنکشن ہو اور کام کرنے کے لیے نوجوانوں کی ضرورت ہو۔ اس وقت ان کے لہجے کی مٹھاس دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ ان کی بیگم میرے بیٹوں کی طرف اشارہ کر کے فرماتی ہیں ’’بھئی ہمیں کیا فکر ، ماشاء اللہ جوان بیٹے ہیں سب سنبھال لیں گے‘‘ اور ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ ان کے دو بیٹوں اور بیٹی کی شادی پر سارے انتظامات اور سارے کام میرے بیٹے بھاگ بھاگ کر کرتے رہے، لیکن جونہی کبھی ہمیں ان کی ضرورت پڑی یوں لگتا ہے جیسے ہمیں جانتے ہی نہیں۔ ایک دن محلے میں ہونے والے لڑائی جھگڑے میں میرے چھوٹے بیٹے کوبھی  پکڑ کر تھانے لے گئے، حالانکہ وہ بے چارہ صرف  دوسرے بچوں کے قریب کھڑا تھا۔ میں بڑے مان سے اپنے ان عزیزوں کے گھر گیا کہ ’’ان کے اپنے بیٹے ہیں‘‘ اور ان کی پہنچ بھی ہے، فوراً کچھ نہ کچھ کرکیبچے کو چھڑا لے آئیں گے۔ لیکن بات شروع کرتے ہی ان کی بیگم صاحبہ کے تیورہی بدل گئے۔ فرمانے لگیں ’’ارے بھائی صاحب! اپنے بچے سبھی کو بے قصور نظر آتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ تو کیا ہو گا نا؟ یونہی تو نہیں پکڑ کر لے گئے؟ اب ہم تو اس پھڈّے میں نہیں پڑ سکتے ’’جو کیا ہے بھگتے‘‘اور یہ کہہ کر وہ کمرے سے یوں غائب ہوئیں کہ تھوڑی دیر بیٹھ کر میں خود ہی شرمندہ ہو کر اٹھ کر آگیا۔
مسز مریم ساٹھ سالہ ریٹائرڈ اسکول ٹیچراور پانچ بیٹیوں  کی ماںہیں۔ ان کی بیٹیاں دس سے دو سال کی تھیں، جب مسز مریمبیوہ ہو گئیں۔ انہوں نے شکایت بھرے لہجے میں بتایا کہ ان کے عزیز رشتے دار اچھے خاصے کھاتے پیتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ وہ میری بیٹیوں کا رشتہ لے کر مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگائیں، لیکن یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ جو ہزاروں روپے کی زکوٰۃ دکھا دکھا کر دوسرے لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں وہ چپکے سے میری جھولی میں ڈال جائیں، تا کہ میں اپنی بچیوں کے گھر آباد کر سکوں۔ یوں بھی میں رشتے دار ہوں میرا حق فائق ہے، لیکن امیر رشتے دار زکوٰۃ خیرات بھی دیتے ہیں تو نمائش کر کے اوراپنے غریبی حقیقی قرابت داروں  اور ضرورت مندوںکو قطعی فراموش کر دیتیہیں ۔
 اس کے برعکس ایک بین الاقوامی حیثیت کے تاجر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ میں ہر سال جب بھی وطن آتا ہوں تمام غریب رشتے داروں کی طرف چکر ضرور لگاتا ہوں اور جس کا بچہ پڑھ رہا ہو اس کو وظیفہ انعام کہہ کر دیتا ہوں اور جس کی بچی بیاہنے والی ہو اس کے لیے بھی خاموشی سے کچھ نہ کچھ ضرور مدد کرتا ہوں۔ جس نے تعلیم مکمل کر لی ہو اس کی ملازمت یا کاروبار کا حتی الامکان بندوبستکرتا، بوڑھے اور غریب رشتے داروں کو سال بھر کا خرچ دے جاتا ہوں۔ یہ میںکسی پر احسان نہیں کرتا ۔میری دولت پر ان کا بھی حق ہے اور شاید مجھے اللہانہی میں سے کسی کی قسمت کا دے رہا ہے۔ اس لیے میں اپنے غریب رشتے داروں کی مدد سے ہاتھ نہیں کھینچتا۔یقیناً یہی وجہ ہے کہ میرے مال میںبرکت ہی برکت ہے۔ کبھی کمی یا تنگی نہیںہوئی۔ میرا ایمان ہے کہ صلہ رحمی اور حقوق العباد کی ادائیگی سے مال اور عمر میں خدا برکت دیتا ہے۔ انہی صاحب کے ایک رشتے دار کا کہنا تھاکہ غرور یا تکبر نام کی کوئی شے اس شخص کو چھو کر نہیں گزری۔ وہ ہمارے گھر آکر کھانے کی خود فرمائش کرتے اور خاص طور پر دال کہہ کر پکواتے ہیں۔یا تو ان کو واقعی پسند ہے یا پھ ر وہ ہمارا بھرم اور عزت قائم رکھنے کی وجہ سے سادہ سی دال بھی بہت رغبت سے کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھئی دنیا جہان کے ہوٹلوں کے کھانے ایک طرف اور گھر کی بگھاری دال ایک طرف۔ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں اور شاید انہی کے دم قدم سے دنیا آباداور انسانیت زندہ ہے۔
امیر اور غریب رشتے داروں کی دوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک بے تکلف دوست نے بھی ہنستے ہوئے اس کی تائید کی اور اپنے بچپن کے حوالے سے بتایا کہ وہ ایک متوسط طبقے کی بچی تھیں۔ گھر کیپاس ہی ایک بہت قریبی لیکن امیر رشتے دار کا گھر تھا۔ان کے تین بچے ہمارے ہی ہم عمر تھے۔ ہم گرمیوں میں ہر روز شام کو نہا دھو کر کھیلنے کے لیے قریبی باغ میں نکلتے تو وہ بھی وہاں آ جاتے۔ ہم سب  گھل مل کرخوب کھیلتے اور اکٹھے کھاتے پیتے ۔ کھیل کے وقت ان کے والدین ہمیں گھر بھی بلا لیتے ۔لیکن جونہی ان کے کھیل کا وقت ختماور ٹیوٹر کے آنے کا وقت ہوتا، ان کے ماں باپ کے چہرے کے تاثرات ہی بدل جاتے اور وہ بڑے روکھے پن سے ہمیں کہتے، چلو بھئی! بچو اب بھاگو… دوڑ جاؤ بس! اور ہم شرمندگی کے انتہائی شدید احساس سے دوچارمنہ لٹکائے واپس آجاتے۔ اسی طرح اگر کھیل کے اوقات کیعلاوہ ان کے گھر چلے جاتے، تو دروازے پر سے ہی لوٹا دیے جاتے کہ بچے سو رہے ہیں، پڑھ رہے یا کھانا کھا رہے ہیں۔ گویا اگر ہم اندر چلے جاتے تو ان کے منہ سے نوالے چھین لیتے۔آج ہم لوگ ان کے برابر ہیں اوروہ لوگ ملنے کی خواہش بھی کرتے ہیں لیکن اب میں ان سے کبھی ملنا نہیں چاہتی‘‘۔
 اس قسم کے رویے کی شکایت کا اظہار جب ہم نے ایک بہت نازونعم میںپلی امیر خاتون سے کیا تو انہوں نے واقعی برا سا منہ بنا کر کہا کہ بھئی بات یہ ہے کہ غریب رشتے داروں کو ہم نے تو غریب نہیں کیا نا؟ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ لیکن ہمارے بچے ان کے ساتھ زیادہ گھل مل جائیں تو بدتمیزیاں سیکھ جاتے ہیں اور سارے’’ ایٹی کیٹس ‘‘بھول جاتے ہیں۔مستزاد یہ کہ وہ بچے مسلسل اردو، پنجابی بول بول کر ہمارے بچوں کی زبان بھی خراب کرتے ہیں۔ ہم کیابیوقوفہیںجو ہر وقت ان سے میل ملاپ رکھ کر اپنے بچوں کی تربیت خراب کر لیں، ہاں! جب انہیںکمپنی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور کوئی اور ان کے ساتھ کھیلنے والا نہیں ہوتا تو میں ان کے بچوں کو بلا لیتی ہوں (تو گویا وہ اپنے بچوں کے لیے کمپنی ہائر کرتے ہیں۔) 
 ایک دوسری خوش حال فیملی کے مطابق ’’ اور تو سب ٹھیک ہیمگرغریب اور متوسط طبقے کے لوگ بطور مہمان اچھے ثابت نہیں ہوتے۔اس لیے یہ دوری ان سے ضروری ہے۔ مثلاً اگر غریب مہمان آ کر آپ کے گھر ٹھہر جائے تو اسے باتھ روم کا استعمال نہیں آتا،وہاں موجود ذاتی چیزوں یعنی بالوں کا برش یا تولیہ وغیرہ کے بے دھڑک استعمال اورٹوکنے پر بُرا مان جانا، کھانے کی میز پر کھانا اس کے لیے عذاب ہوتا ہے۔ دوسرے اُن کی توقع ہوتی ہے کہ گھر کے تمام افراد  ان کے ارد گرد جمگھٹا لگا کر بیٹھیگپیں ہانکتے رہیں۔ ہماری مصروف زندگی میں ایسا ممکن نہیںہوتا۔ پھر ہر ایک کے کمرے میں بلا اجازت گھُس جانا اور اس کی چیزوںکو بے تکلفی سے الٹ پلٹ کرنا وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ وہ نوکروں کے ساتھ بے تکلف ہو کر ان کو پرانے قصے سناتے اوردوستیاں کر کے ان سے ہمارے بارے میں کرید کرتے ہیں وغیرہ۔
متوسط طبقے کا یہ کہنا بھی کسی قدر بجاہے کہ امیر رشتے دار شادی بیاہ پر اگر آ بھی جائیں تو اپنی حیثیت کو مدنظر رکھ کرتحائف دینے کے بجائے ہلکا سا اور فالتو سا تحفہ دے جاتے ہیں ۔شاید ہماری طرف سے بدلے میں ہم پلہ تحفہ ملنے کی امید جو نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ کچھ امیر حضرات قربانی پر بھی ران،چانپیں اور روکھا صاف ستھرا گوشت اپنے جیسے دوستوں رشتے داروں میں ادل بدل کرتے اور ہمارے گھر چربی،چھیچھڑوں اور ہڈیوں پر مشتمل گوشت بھیج دیتے ہیں۔حالانکہ ہمیں پورا سال انتظار رہتا ہے کہ کب عید قرباں آئے اور ہمیں گوشت نصیب ہو۔لیکن سخت مایوسی ہوتی ہے۔
بہرحال کیا کہیے !معاشرے میں جہاں کچھ خامیاں اور برائیاں موجود ہیں وہیں نیک سیرت اور ایسے مخیر دردمند دل لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے پرائے کے فرق کو مٹا کر ہر ایک ضرورت مند کو سینے سے لگاتے اور مدد کرتے ہیں۔
publish in urdu digest august 2017

Comments

Popular posts from this blog

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں عافیہ مقبول جہانگیر بچہ کسی ملک یا کسی بھی طبقے کا ہو اس کی کچھ جبلی عادات ہمیشہ اور ہر دور میں ایک سی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم جو کھیل بچپن میں خود کھیل چکے ہوتے ہیں اس کی خواہش ہم اپنے بچوں میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کھیل جو ہر خطہ زمین کے بچوں میں مشترکہ طور پر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہے گیلی مٹی سے مختلف اشیا بنا کر کھیلنا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ سب بچوں کا مرغوب ترین اور پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ گیلی مٹی کا لمس اور پھر اسے اپنی مرضی کی شکل دے لینے میں کامیابی بچے کو عجیب سی لذت اور خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔  اکثر بچے تو مٹی سے طرح طرح کے کھلونے اور چیزیں بنانے میں اتنے مگن اور محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز خود کلامی کرتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد خیالی دنیا بسا کر محویت میں مبہم سی آوازیں نکالتے اور مسکراتے ہیں جو اس وقت ان کی طمانیت کو صاف ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات آپ نے کھیلتے ہوئے بچے کے منہ سے رالیں بہتی بھی دیکھی ہوں گی۔ یہ سب اس کی خوشی اور طمانیت کا اظہار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ مٹی سے کھ...

ڈاکٹر رُتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے عافیہ مقبول جہانگیر ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میںوہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ ...

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس اپنی ناکامی پر قسمت کو موردِالزام ٹھہرانے والوں کے لیے ایک پُرسوچ تحریر عافیہ مقبول جہانگیر واضح فرق ہے کہ برائی بہت جلد پھیلتی ہے جبکہ نیکی کا راستہ بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ منفی رحجانات‘ خیالات تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اچھائی کو کچھ وقت لگتا ہے۔ انہی منفی رحجانات میں سب سے اہم رحجان دوسروں سے لاتعلقی اور ہر جگہ صرف اپنے آپ کو اہم سمجھنا،’’میں‘‘،’’مجھے‘‘ اور ’’میرا‘‘جیسے خودغرضانہ اصول پر کاربند رہنا ہے۔اور اگر غور کریں تو یہی سب سے بڑی وجہ ہے ناکامی کی۔ہم ہر جگہ کامیاب ہونا اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،ہم اکیلے ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن نہیں۔کیونکہ کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔اور ہمیں  کوئی انسان سہارا تبھی دے گا جب ہم اپنے خود ساختہ’’میں‘‘کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بھی مدد کریں اور ان کو بھی سہارا دے کر ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ایک خودغرض انسان ایک آدھ بار اتفاقیہ طور پر تو شاید کامیابی حاصل کر لے مگر مستقل بنیادوں پر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی ...