Skip to main content

Posts

انوکھا لاڈلا

پرورش سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا۔۔۔ زندگی کیا ہے،محبت کی زباں سے سُنیے عافیہ مقبول جہانگیر ساتھ والے گھر سے پھر جھگڑے اور بحث کی آوازیں آرہی تھیں اور میرا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔اُن آوازوں سے نہیں بلکہ موضوع بحث کی وجہ سے۔آج بھی حسبِ معمول میاں بیوی کا موضوع سخن وہ ننھا آٹھ سالہ ولید تھا جو کبھی اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا ہوا کرتا تھا۔ پانچ سال تک وہ گھر بھر کا لاڈلا رہا مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت آشکارا ہوتی گئی کہ وہ ٹھیک سے بول نہیں پاتا۔ اُسے الفاظ کی ادائیگی میں دقت کا سامنا تھا اور نہ ہی اس کا ذہن عام بچوں کی طرح نشوونماپا رہا تھا۔ماں باپ کی اُمیدوں پر اوس پڑ گئی اور آہستہ آہستہ وہ اُن تمام ناز نخروں سے محروم کر دیا گیا جن پہ اُس کا حق تھا۔ اب وہ کسی ان چاہی چیز کی طرح گھر کے ایک کونے میں گند سے سنا ہوا پڑا رہتا۔وہ اپنے ماں باپ کی منت مرادوں سے مانگی دعا کا وہ ثمر تھا جو اُنہیں اِس روپ میں قبول ہی نہ تھا۔گویا اُنہیں بس کھیلنے کے لیے ایک کھلونا چاہیے تھا،اور جب وہ مطلب کا نہ ملا تو کسی کونے میں ڈال دیا۔اُنہوں نے ایک ایسے بچے کی دعا کی ...

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس اپنی ناکامی پر قسمت کو موردِالزام ٹھہرانے والوں کے لیے ایک پُرسوچ تحریر عافیہ مقبول جہانگیر واضح فرق ہے کہ برائی بہت جلد پھیلتی ہے جبکہ نیکی کا راستہ بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ منفی رحجانات‘ خیالات تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اچھائی کو کچھ وقت لگتا ہے۔ انہی منفی رحجانات میں سب سے اہم رحجان دوسروں سے لاتعلقی اور ہر جگہ صرف اپنے آپ کو اہم سمجھنا،’’میں‘‘،’’مجھے‘‘ اور ’’میرا‘‘جیسے خودغرضانہ اصول پر کاربند رہنا ہے۔اور اگر غور کریں تو یہی سب سے بڑی وجہ ہے ناکامی کی۔ہم ہر جگہ کامیاب ہونا اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،ہم اکیلے ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن نہیں۔کیونکہ کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔اور ہمیں  کوئی انسان سہارا تبھی دے گا جب ہم اپنے خود ساختہ’’میں‘‘کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بھی مدد کریں اور ان کو بھی سہارا دے کر ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ایک خودغرض انسان ایک آدھ بار اتفاقیہ طور پر تو شاید کامیابی حاصل کر لے مگر مستقل بنیادوں پر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی ...

سوشل میڈیا اور بچوں کی تربیت

سماجیات مجھے’’ماں‘‘مت کہو سوشل میڈیا اور بچوں کی تربیت کچھ مغرب زدہ والدین کی انٹرنیٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مشغلوں نے اولاد کو یہ کھیل وراثت میں دے دیا۔ عافیہ مقبول جہانگیر دورِجدیدمیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ان کے فوائد اور نقصانات کو بنظرِغائردیکھا اور پرکھا جائے توہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ سب ہماری سوچ اور ذہنیت پر منحصرہے کہ ہم اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک بے حد تشویشناک صورتحال ہمارے معاشرے میں وبا کی صورت پھیل رہی ہے، جو نو عمر بچوں کا ان سوشل میڈیاز کا انتہائی آزادانہ اور بے محابہ استعمال ہے۔ ۲۰۰۷ ء میں فیس بُک نامی سماجی رابطے کی اس سائٹ نے شروعات کی تب چند ایک نے ہی اسے استعمال کیا اُس وقت اس سائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کی آپشن کے ساتھ ہی خاص طور پر تاکید کی جاتی کہ اکاؤنٹ بنانے والے کا شناختی کارڈ نمبر یا کریڈٹ کارڈ نمبر بھی لکھیں تاکہ واضح ہو سکے کہ آئی ڈی بنانے والا انسان بالغ ہے۔اس طرح بننے والی آئی ڈی نہ صرف قابلِ بھروسہ ہوتی تھی بلکہ اُس کا غلط استعمال بھی ممکن نہ تھا لیکن وقت کے س...

میرا گریبان

میرا گریبان ’’زندگی‘‘ اپنے آپ کو نہیں دوسروں کو خوش رکھنے کانام ہے عافیہ مقبول جہانگیر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی خطاؤں کو معاف کر کے‘ درگزر کر کے اُن کی خوبیوں کو سراہیں اور حوصلہ افزائی والے تعریفی کلمات سے نوازیں۔ دوسروں کی غلطیوں کو ہم ایک سیکنڈ میں جج ( judge )کر لیتے ہیں اور جان بوجھ کر اُن کی خوبیوں سے منحرف ہو جاتے ہیں۔یوں ہم لوگوں کے دلوں تک رسائی کے بہت سے مواقع صرف اپنی اس عادت کی وجہ سے کھو دیتے ہیں۔ اپنے گریبان میں جھانکنا بہت مشکل کام ہے لیکن جب ایک دفعہ انسان یہ عمل شروع کر دے تو یہی خوداحتسابی اُسے کامیاب انسانوں کی فہرست میں لا کھڑا کرتی ہے۔ تب اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کبھی اس قابل تھا ہی نہیں کہ دوسروں پر انگلی اُٹھا سکے۔ یاد رکھیے! ہم معاشرے کو تبھی بلند مقام دے سکتے ہیں جب ہم خود کو پہلی سیڑھی پر کھڑا کر کے دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں گے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ خود کو گرا لیں اور لوگ آپ پر پاؤں رکھ کر آگے نکل جائیں۔ پہلی سیڑھی پر خود کو کھڑا کرنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کوئی بہت توپ شے یا بہترین سمجھنے کے بجائے صرف ا...

طلوعِ پاکستان

طلوعِ پاکستان جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی عظیم اور انسانی تاریخ کی بے مثل جدوجہد کا ثمر عافیہ مقبول جہانگیر ہمارا وطن پاکستان جسے ہمارے بزرگوں نے ان گنت، لازوال قربانیوں کے عوض حاصل کیا تھا اسی کی بدولت مسلمانانِ ہند آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہر زمانے، ہر دور میں جتنا بھی لکھا جائے کم ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر زمانہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی عظیم جدوجہد کی تشریح و تفسیر ہر دور میں نئی تحقیق و جستجو کے ساتھ کرے گا۔ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی یہ عظیم و لازوال جدوجہد انسانی تاریخ کا ایک بے مثل ذریعہ ہے۔ جسے کروڑہا مسلمانانِ ہندنے اپنے عظیم قائد محمد علی جناحؒ کی قیادت میں اپنے خون سے رقم کیا۔ ہماری آج کی نسل بہت لاپروائی اور بے نیازی سے کہتی ہے کہ آخر الگ ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ایسا کہتے ہوئے انہیں قطعاً اندازہ نہیں ہوتا کہ آخر ایسی کیا ضرورت اور مجبوری آن پڑی تھی کہ ہزاروں لاکھوں مسلمان اپنے خاندان، اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر خون کی ہولی سے نبردآزما ہو کر، اپنا سب کچھ لُٹانے پر خوشی خو...