پرورش سب کو آتا نہیں دنیا کو سجا کر جینا۔۔۔ زندگی کیا ہے،محبت کی زباں سے سُنیے عافیہ مقبول جہانگیر ساتھ والے گھر سے پھر جھگڑے اور بحث کی آوازیں آرہی تھیں اور میرا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔اُن آوازوں سے نہیں بلکہ موضوع بحث کی وجہ سے۔آج بھی حسبِ معمول میاں بیوی کا موضوع سخن وہ ننھا آٹھ سالہ ولید تھا جو کبھی اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا ہوا کرتا تھا۔ پانچ سال تک وہ گھر بھر کا لاڈلا رہا مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت آشکارا ہوتی گئی کہ وہ ٹھیک سے بول نہیں پاتا۔ اُسے الفاظ کی ادائیگی میں دقت کا سامنا تھا اور نہ ہی اس کا ذہن عام بچوں کی طرح نشوونماپا رہا تھا۔ماں باپ کی اُمیدوں پر اوس پڑ گئی اور آہستہ آہستہ وہ اُن تمام ناز نخروں سے محروم کر دیا گیا جن پہ اُس کا حق تھا۔ اب وہ کسی ان چاہی چیز کی طرح گھر کے ایک کونے میں گند سے سنا ہوا پڑا رہتا۔وہ اپنے ماں باپ کی منت مرادوں سے مانگی دعا کا وہ ثمر تھا جو اُنہیں اِس روپ میں قبول ہی نہ تھا۔گویا اُنہیں بس کھیلنے کے لیے ایک کھلونا چاہیے تھا،اور جب وہ مطلب کا نہ ملا تو کسی کونے میں ڈال دیا۔اُنہوں نے ایک ایسے بچے کی دعا کی ...
My blog, My beautiful world