فیشن دیوتا کے چرنوں میں! فیشن کے نام پر چند چیتھڑوں کا بے تُکا استعمال آج کے دور میںــ’’جدت پسندی‘‘ کہلاتا ہے بیہودہ ملبوسات اور ماڈرن طرزِ زندگی ہمیں ترقی کی طرف لے جا رہے یا۔۔؟ عافیہ مقبول جہانگیر کیمرے کی چکاچوند فلیش لائٹیں آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی ہیں۔پورا ہال مع سٹیج بقعۂ نُوربنا ہواہے۔پسِ پردہ چلتی ہیجان انگیز موسیقی حواس پر طاری ہے۔ایک کے بعد ایک طرح دار حسینائیں رنگارنگ ملبوسات زیب تن کیے،فخروغرور سے گردنیں اکڑائے باری باری حاضرین کے سامنے جلوہ افروز ہو رہی ہیں۔ایسا رومان پرور اور ہوشربامنظر دیکھنے کے لیے شہر بھرکے معززین اور مشہور شخصیات ایک چھت تلے جمع ہیں۔نہ یہاں فرقوں کا جھگڑا،نہ مسلک کا۔سب مکمل یک جہتی کا عالیشان مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی اتفاق و سلوک کی عمدہ مثال بنے’’ایک قوم ہیں ہم ‘‘کی زندہ تفسیر بنے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ حسیناؤں کو داد دینے کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے پیغام بھی دیتے ہیں۔سب جانتے ہیں پھر بھی انجان بنے ہوئے ہیں کیونکہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔کون کس کی پردہ پوشی کرے اور کون کس کے راز کھولے، اس سے کسی کو ...
My blog, My beautiful world