Skip to main content

دلِ برداشتہ،ذرا حوصلہ

 نفسیات





اقدامِ خودکشی ۔۔۔۔جس میں جسم سے پہلے روح کی موت واقع ہو جاتی ہے

عافیہ مقبول جہانگیر
سترہ سال کی عمر میں اُسے کالج سے نکال دیا گیا۔جب وہ ۲۵ سال کی تھی تب اس کی ماں ایک بیماری کی وجہ سے دنیا سے چل بسی۔شادی کے بعد اس نے اپنے شوہر کے بے پناہ مظالم سہے اور اس مار پیٹ و تشدد کی وجہ سے ۲۷ سال کی عمر میں وہ اپنے آنے والے بچے کو بھی کھو بیٹھی۔پھر اس کے گھر ایک بیٹی نے جنم لیا۔۲۸ سال کی عمر میں اُس کے شوہر نے اُسے ذہنی مریضہ قرار دے کر طلاق دے دی۔وہ وقت اُس نے شدید ڈپریشن اور مشکلات سے تنہا نبرد آزما ہوتے ہوئے گزارا۔۲۹ سال کی عمر میں ایک سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن نے اس کو پناہ دی  اور وہ ان کی زیرِ نگرانی اپنی بچی کے ساتھ زندگی کے دن گزارتی رہی۔

لیکن وہ پے در پے ناکامیوں اور دکھوں سے تنگ آ چکی تھی اور اب اُس میں جیسے برداشت کا مادہ ختم اور حوصلہ دم توڑتا دکھائی دے رہا تھا۔آخر صرف تیس سال کی عمر میں اُس نے اپنی بچی کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے خودکشی جیسا خطرناک اور انتہائی قدم اُٹھا تے ہوئے خود کو مارنے کی کوشش کی مگراُسے بچا لیا گیا۔وہ اتنی مایوس ہو چکی تھی کہ اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ آخر اس میں کوئی تو خوبی یا ہنر ہو گا جسے وہ ڈھال بنا کر آگے بڑھ سکے۔تب اُسے خیال آیا کہ وہ لکھ سکتی ہے۔شاید وہ ایک مصنفہ بن سکتی ہے۔اس سوچ نے اس پر زندگی کے نئے در وا کر دیے اور اب پہلی دفعہ وہ  ناکامیوں اور مایوسیوں سے ہٹ کر ایک الگ راہ پر چل نکلی۔


اکتیس سال کی عمر میں اُس کی پہلی کتاب منظرِعام پر آئی۔ اس کی کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔۳۵ سال کی عمر میں وہ چار کتابوں کی مصنفہ بن چکی تھی اور اسی سال اسے سال کی  بہترین مصنفہ کے ٹائٹل سے بھی نوازا گیا۔۴۲ سال کی عمر میں اس کی نئی کتاب کی ریلیز کے پہلے ہی دن گیارہ ملین کاپیوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی۔یہ مشہور و معروف مصنفہ جے۔کے۔رولنگ تھی۔ جس نے صرف تیس سال کی عمر میں ہی زندگی کی اُن معمولی ناکامیوں سے گھبرا کر مرنے کی کوشش کر ڈالی تھی،جو اُس وقت اس کے لیے معمولی نہیں بلکہ پہاڑ جیسی بڑی لگتی تھیں۔ اگر وہ اُس انتہائی قدم میں کامیاب ہو جاتی تو ا ٓج زندگی کی ان مسرتوں اور شادمانیوں سے کیسے  لطف اندوز ہو پاتی جو مقدر میں لکھ دی گئی تھیں۔


ہیری پوٹر کے نام سے کون واقف نہیں۔جو آج گلوبل برانڈ بن چکاہے۔اُس کی اب تک کی کمائی جانے والی کُل دولت کا تخمینہ اندازاً ۱۵ بلین ڈالرز ہے۔جی ہاں!جے۔کے۔رولنگ ہی اس لازوال ہیری پوٹر کی باکمال مصنفہ ہیں۔DREW BARRYMORE نے بھی ۱۴ سال کی عمر میں خودکشی کی کوشش کی تھی اور آج وہ امریکا کی ایک کامیاب اور مشہور ٹی وی پروڈیوسر،فلم پروڈیوسر،ماڈل اور مصنفہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔
میں یہاں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ کامیابی،ناکامی زندگی کے دو رُخ ہیں،جو زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان سے مفر ممکن نہیں۔جو غموں سے گھبرا کر خودکشی کی کوشش کرتے ہیں وہ قنوطیت کا شکار ہیں جو بذاتِ خود ایک نفسیاتی بیماری ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کامیابی ہے کیا۔۔؟کس چیز کا نام ہے؟یہ ایسی کیا بلا ہے جو اگر نہ ملے تو انسان اتنا دل برداشتہ ہو جاتا ہے کہ خود اپنے ہاتھوں اپنی ہی زندگی ختم کر لیتا ہے۔کیا یہ اس قدر ضروری ہوتی ہے۔۔؟
کامیابی،دراصل خوشی کا دوسرا نام ہے اور زندگی میں خوشی حاصل کرنا نہایت آسان ہے اور اس پرکچھ خرچ بھی نہیں آتا۔جو لوگ صرف دولت و شہرت کو ہی کامیاب زندگی اور خوشی سے عبارت کرتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں۔
جس طرح نیکی بغیر پیسوں کے بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح خوشی بھی بنا دولت کے حاصل کی جا سکتی ہے۔اگر آپ اندر سے ہی خوش اور مطمئن نہیں تو چاہے آپ دنیا کی سیر پر بھی نکل جائیں ،خوشی کو نہیں پا سکتے۔سیرو سیاحت خوشی پانے کا نہ تو راستہ ہے نہ متبادل۔اگر دل ہی مردہ ہوچکا ہو تو دنیا کا حسین سے حسین نظارہ بھی آپ کے لبوں پر مسکراہٹ نہیں لا سکتا۔آپ ہزاروں میں بھی خود کو تنہا ہی محسوس کرتے رہیں گے۔اس کے برعکس سچی اور سُچی خوشی تو جھونپڑی میں رہنے والا بھی حاصل کر لیتا ہے۔کیونکہ اپنے نصیب پر شاکر رہنے والا نہ تو دولت کے ذریعے ملنے والی خوشی کا محتاج ہوتا ہے نہ کسی کے مصنوعی سہارے کا۔اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک انسانی جان کو اتنا بے مول کر دیتے ہیںکہ وہ خود اپنا دشمن بن بیٹھتا ہے۔
یہ جو انسان کے اندر بے کلی ہے،مایوسی اور بے چینی ہے،بہت کچھ پا لینے کا جنون ہے۔یہی اُس کی اصل تباہی کی وجہ ہے۔’میرے پاس فون نہیں ہے‘ یہ میری ایک ضرورت کے تحت سوچی جانے والی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر ’’میرے پاس مہنگا اور دوسروں سے اچھا فون نہیں ہے‘‘ یہ سوچ انتہائی خطرناک اور تباہی کے دہانے تک پہنچا دینے والی ہے۔


دوسری طرف مقابلہ بازی،ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ضد،ہر چیز میں ایک قدم آگے رہنے کا جنون آپ کو تباہ کر رہا ہے ۔تقویٰ،قناعت جیسے الفاظ صرف کتابوں کی زینت بنتے جا رہے اور عملی زندگی میں دور دور تک ان کا نام و نشان باقی رہتا نظر نہیں آ رہا۔یہ بہت تشویشناک صورتحال ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں خودکشی کا رحجان بڑھ رہا ہے ،خاص طور پر نوعمر لڑکے لڑکیوں میں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان میں نوعمر لڑکے لڑکیوں کی خودکشی کی شرح تعداد ۱۵ ہزار کے قریب تھی۔اُس رپورٹ کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والوں کی تعداد تقریباً ۵۰ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ تھی اور زیادہ تر تعداد ان میں ۳۰ سال یا اس سے کم عمر کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تھی۔۲۰۱۱ء کی HRCPکی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۱۵۳،۱ خودکشیوں کے کیس سامنے آئے اور ان میں تقریباً ۶۰ فیصد نوعمر لڑکے لڑکیاں تھے۔
ہمارے معاشرے میں لڑکوں کی نسبت ،زیادہ ترلڑکیاں خودکشی جیسا انتہائی خطرناک قدم اُٹھاتی ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عموماً لڑکیوں کو بہ نسبت لڑکوں کے،زیادہ ذہنی دباؤ،پابندیوں،یا معاشرے کے بدصورت رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہمارا معاشرہ وہ معاشرہ ہے جہاں لڑکوں کی غلطیوں کو نظرانداز جبکہ لڑکی سے ہو جانے والی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔

کچھ دن پہلے اخبار کی ایک خبر پر نظر پڑی جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ دو نوجوان لڑکا لڑکی انٹرنیٹ پر دوست بنے اور آہستہ آہستہ یہ دوستی ’محبت‘ میں بدل گئی۔نیٹ پر بننے والا یہ رشتہ کیا خاک سچا اور مضبوط ہو گا؟لڑکے نے اُس لڑکی کو ورغلایا اور گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کی ترغیب دی۔یوں وہ دونوں ’’فلمی‘‘ہیرو ہیروئن کی طرح گھر سے بھاگ گئے ۔کچھ دن بعد لڑکے کو جب عملی زندگی میں آٹے دال کا بھاؤ پتا چلا اور عملی زندگی پہاڑ کے مانند بوجھ لگنے لگی تب اُس کا سارا عشق اُڑن چھُو ہو گیا اور وہ لڑکی کو اکیلا چھوڑ کراپنے گھر لوٹ گیا۔کیونکہ کہیں نہ کہیں اُس لڑکے کو یقین تھا کہ گھر والے اُسے لعن طعن کرنے کے سِوا اور کیاکہہ سکتے ہیں۔اور ہوا بھی یہی۔لڑکے کی اس ’غلطی‘ کو اُس کا محض ایک جذباتی قدم اور عمر کا جوش سمجھ کر معاف کر دیا گیا مگر،وہ لڑکی۔۔؟؟ کیا وہ اِسی دھڑلے اور بے خوفی سے دوبارہ اپنے گھر واپس جا سکتی تھی؟شاید نہیں۔اُسے نہ تو معاشرہ معاف کرتا نہ ہی گھر والے۔مجبوراًاُس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔لڑکے اور لڑکی درمیان رویوں کے اسی فرق نے لڑکیوں کو خودکشی کی طرف زیادہ مائل کر دیا۔لیکن اِن بچیوں کو سوچنا چاہیے،کہ زندگی اس قدر قیمتی نعمت ہے کہ اس سے یوں کھیلنا قانوناً بھی جرم ہے اور اسلام میں بھی حرام ہے۔
خودکشی جیسے قبیح فعل کی اہم وجہ اپنے مذہب اور اسلامی تعلیمات سے دُوری ہے۔یاد رہے کہ اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر اُن کے گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔جو اُس کی دی ہوئی آزمائش پر پورا اترتے ہیں وہ اس کی رحمت میں پناہ پاتے اور جو ناکام ہو جاتے ہیں وہ خودکشی کو راہِ نجات سمجھتے ہیں اور نہ صرف اپنا دنیاوی نقصان کرتے ہیں بلکہ اپنی آخرت بھی برباد کر لیتے ہیں۔ حالانکہ انسان اگر صبر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلب گار خلوصِ نیت سے ہو تو تمام مصیبتیں ختم ہو جاتی ہیںاور انسان ان گناہَ کبیرہ سے بچ جاتا ہے۔لیکن ہم میں صبر و تحمل کی کمی ہے۔ہماری خواہشات لا محدود اور وسائل محدود ہیں۔اسلام میں تو موت کی دعا مانگنے سے بھی منع کیا گیا ہے کجا خود کو جان سے ہی مار ڈالنا۔عارضی زندگی کی اذیتوں سے گھبرا کردائمی عذابِ الٰہی مول لینا کہاں کی عقلمندی ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :ترجمہ:اور اپنی جانیں قتل نہ کرو،بے شک اللہ (عزوجل)تم پر مہربان ہے اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریںگے اور یہ اللہ(عزوجل) کو آسان ہے‘‘۔
 (ترجمہ کنزالایمان پ۵،نِساء ۲۹۔۳۰)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کے نبی ﷺنے فرمایا،’’ جس شخص نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اور یوں ہی اونچائی سے گرتا رہے گا، اور جس شخص نے زہر پی کر خودکشی کی ، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جس کے وہ گھونٹ بھرتا رہے گا اور جس نے لوہے کے تیز دھار آلہ سے خود کشی کی ، اس کے ہاتھ میں وہی تیز دھار آلہ تھما دیا جائے گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس آلے کو اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا
 صحیح بخاری، باب شرب السم، حدیث:5778 ]
 یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر نئی نسل ہی کیوں اس کا زیادہ شکار ہو رہی ہے۔آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو ان معصوم ذہنوں کو اس قدر انتہا کی طرف دھکیل دیتے ہیں؟ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ آج کل کی نسل کو،پُرانے زمانے کی نسبت،زیادہ دباؤ،مقابلے کی دوڑ اور ناکامیوں کا خوف لاحق ہے۔انہیں بچپن ہی سے زندگی کے اتنے بھیانک اور مشکل پُرپیچ راستے دکھا دیے جاتے ہیں کہ وہ اس دوڑ میں جب جیت نہیں پاتے اور گھر والوں کے بُرے منفی رویے اُن کے ذہن و دل پر اتنے حاوی ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں اس زندگی سے چھٹکارا پانے کے سِوا اور کوئی راہ ہی نہیں ملتی۔
سکول میں پڑھائی کا حد سے زیادہ دباؤ،تناؤ اور اساتذہ کا ہتک آمیز رویہ،گھر میں والدین کی طنزیہ گفتگو۔آخر ایک بچہ بے چارہ کیا کرے،کہاں جائے؟اُسے جینے کی راہ ڈھونڈنے میں مدد دینے کی بجائے ہانک کر اُس لائن میں کھڑا کر دیا جاتا ہے جہاں اسے تن تنہا ہر لڑائی بنا کسی راہنمائی کے لڑنی پڑتی ہے۔ جیت گیا تو واہ واہ ،پیچھے رہ گیا تو لعن طعن۔


کچھ عرصہ قبل چودہ سالہ یعقوب نے سکول سے گھر آ کر باپ کے پستول سے خود کو گولی مار لی تھی۔کہاں سے آ گیا تھا اس ذرا سے بچے میں اتنا حوصلہ؟خودکشی۔۔۔اپنی جان لینا اپنے ہاتھوں سے بہت دل گردے کا کام ہوتا ہے۔وہ کیا لمحہ ہو گا اُس وقت ،جو اس کا ذہن نجانے کیا کیا تانے بانے بنتا رہا ہو گا۔کس ذہنی اذیت سے دوچار ہو رہا ہو گا وہ بچہ۔اس کے والد نے بعد میں پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ یعقوب سکول جانے سے انکاری تھا کیونکہ کلاس میں اساتذہ اس کی بے عزتی کرتے تھے۔اسے ڈانٹتے تھے اور ہر روز وہ یہ اذیت سہتا تھا۔باپ کو اپنا ہمدرد جان کر اس نے باپ سے مدد چاہی تو الٹا باپ نے بھی چار سنا دیں اور اسے برا بھلا کہا۔کوئی اس معصوم کی بات سننے پر ہی تیار نہ تھا۔جیسے کسی کو اس کے مسٔلے سے کوئی سروکار ہی نہ تھا۔نتیجتاً ایک دن یعقوب نے ان ’’مصیبتوں‘‘ سے خود کو آزاد ہی کر لیا۔جو اس کے لیے ناقابلِ حل تھیں لیکن اس کے والدین کے لیے تو نہیں تھیں۔اس کے لیے اپنی زندگی محض چودہ سال کی عمر ہی میں ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی۔
نوعمری ،لڑکپن ہی تو زندگی کا سب سے بہترین اور سنہرا دور ہوتا ہے۔جبکہ ہمارے معاشرے میں اب سب سے زیادہ ڈپریشن،ٹینشن اور فرسٹریشن بھی اسی دور کے بچوں کو سہنا پڑ رہی ہے۔یہ عمر تو شرارتیںاورنادانیاں کرنے ،اور اپنی غلطیوں سے مثبت سبق سیکھنے کی ہوتی ہے۔لیکن یہاں تو کوئی ان کی غلطیوں کو معاف کر کے انہیں گلے سے لگانے پر ہی تیار نہیں۔
انہیں یہ کیوںنہیں سکھایا جاتا کہ کوئی بات نہیں بیٹا۔۔غلطی کر کے ہی سیکھو گے۔بلکہ انہیں یہ بآورجاتا ہے کہ غلطی کی ’’گنجائش‘‘ ہی نہیں اور اگر ہوئی تو کیوں؟؟؟یہ کامیاب زندگی کی طرف لے جانے والی کون سی سیڑھی ہے؟نجانے یہ کون سا طریقہ ہے بچے کو کامیاب بنانے کا؟

بہت سے ایسے کامیاب لوگ ہیں جو بچپن میں بالکل نکمے اور لاپروا تھے۔ان کا کوئی شاندار تعلیمی ریکارڈ نہیں تھا پھر بھی انہوں نے زندگی میں بہت نام کمایا اور ترقی کی۔صرف اس لیے کیونکہ ان کے حوصلوں کو ان کے اپنوں نے مہمیز دی۔ان کا ساتھ دیا،ان کی طاقت بن کر زندگی کے خوبصورت پہلو اور مثبت سوچ اجاگر کی نا کہ بھیانک مستقبل کے ڈراوے دے دے کر ان کا جینا عذاب بنایا۔
کامیاب لوگوں کا ساتھ تو ہر کوئی دیتا ہے۔اصل ساتھ تو وہ ہے نا،جو ناکام ہو جانے پر دیا جائے۔جیسے تھامس ایڈیسن کی ماں نے اُس کا ساتھ دیا جب اُسے بارہ سال کی عمر میں سکول سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ یہ بچہ تمام عمر کچھ نہیں سعکھ سکتا کیونکہ اسے ۱۲ سال کی عمر تک حروفِ تہجی کی بھی پہچان نہیں ہو سکی تھی۔اُس کی والدہ نے اُسے گھر پر ہی تعلیم دینی شروع کر دی تاکہ باہر کی دنیا میں اُس کا مذاق نہ بن جائے۔

 مشہور اداکارامیتابھ بچن اداکاری کے علاوہ آج اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سیجاناجاتا ہے۔ آپ جان کر حیران ہوں گے کہ اسے ناکارہ اور بھدی آواز اور تنکا سی لمبی پتلی جسامت کا مالک قرار دے کر ریجیکٹ کر دیا گیا تھالیکن وہ دل برداشتہ نہیں ہوا اور اُس نے قسمت آزمائی جاری رکھی۔آج پوری دنیا میں وہ کامیاب ترین اداکار،گلوکار اور صداکار کے طور پر مشہور ہے۔اسی طرح ہریانہ کے مشہور پہلوان 
سنگرام سنگھ نے آٹھ سال معذوری میں وہیل چیئر پر گزارنے کے بعد ایک نئے سرے سے زندگی شروع کی اور اس کے بعد تو جیسے اپنے ملک کے لیے ایوارڈز کی لائن لگا دی۔
یہاں بات یہ نہیں ہو رہی کہ کس نے کیا کامیابی حاصل کی ۔یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ اگر انسان چھوٹی چھوٹی باتوں یا رویوں سے دل برداشتہ ہونے لگ جائے تو یہ بڑی بڑی کامیابیاں کیسے حاصل کرے گا۔اگر دل برداشتہ ہونے یا ناکام ہونے کا حل خودکشی ہی ہے تو آج دنیا کئی نامی گرامی کامیاب مشہور شخصیات سے محروم ہوتی۔
خودکشی جیسا خطرناک اور انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے  ان باتوں پر غور کر لینا شاید آپ کے اندر ایک نئی جینے کی امنگ پیدا کر ے اور آپ کی سوچ کو ایک مثبت موڑ دینے میں معاون ثابت ہو سکے۔
٭ضروری نہیں کہ ہر دن اچھا اور خوشیوں بھرا ہو،لیکن ہر دن میں کوئی ایک اچھی بات یا خوشی چھپی ہوتی ہے۔اس کو ڈھونڈنا ہی آپ کا نصب العین ہونا چاہیے ۔
٭زندگی گزارنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔یا تو صحیح راستے کا انتخاب کر لیا جائے یا پھر جو راستہ ملے اسے ہی صحیح اور مثبت سوچ کے ساتھ اپنا لیا جائے۔کہا جاتا ہے کہ جو اپنے لیے اصول وضع نہیں کرتے انہیں پھر تمام عمر دوسروں کے بنائے ہوئے اصولوں پر ہی چلنا پڑتا ہے۔اور جب دوسروں کے اصول ہماری ذہنیت سے میل نہیں کھاتے تو پھر ہمارے دل و دماغ میں کشمکش پیدا ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے ڈپریشن اور فرسٹریشن کا روپ دھار لیتی ہے۔

٭ہو سکتا ہے آج آپ خود کو بے بس اور لاچار محسوس کر رہے ہوں اور عین ممکن ہے کہ آپ خود کو بالکل تہی داماں سمجھ رہے ہوں۔لیکن یہ یاد رہے کہ یہ وقت سدا نہیں رہنے والا۔یہ بہت جلد گزر جائے گا ۔ایسے کسی کمزورلمحے کی ضد میں آ کر آپ بھٹکنے کی غلطی ہرگز مت کریں۔کیونکہ صرف ایک پل کا جذباتی فیصلہ آپ کو اور آپ کے پیاروں کو شدید صدمات سے دوچار کر سکتا ہے۔
٭یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ضروری نہیں آپ کا اقدام ِ خودکشی کامیاب ہو۔آپ بجائے مرنے کے،اپاہج بھی ہو سکتے ہیں،زندگی بھر کے لیے دوسروں کے محتاج ہو کر آپ پہلے سے کہیں زیادہ پچھتا سکتے ہیں۔ہیں نا؟
٭گیا وقت واپس لانا اب اتنا بھی مشکل نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آپ پھر سے زندگی کے اُسی موڑسے اپنی زندگی کی شروعات کر سکتے ہیں جہاں آپ کی منزل آپ سے بچھڑ گئی تھی۔وہیںسے آپ دوبارہ نئے سرے سے اپنا سفر ایک نئی منصوبہ بندی اور ہمت و حوصلے سے کریں۔


٭عقل و شعور،ذہانت ہر انسان کے پاس ہوتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ جو لوگ اس کا بروقت اور درست استعمال کرنا سیکھ جاتے ہیں وہ ذہین کہلاتے ہیں اور جو سانپ گزر جانے کے بعد لاٹھی پیٹتے ہیں ۔انہیں دنیا بیوقوف کہتی ہے۔لہٰذا خود کو یہ یقین دلائیں کہ نہ تو آپ کمزور ہیں نہ ہی بیوقوف۔آپ اپنی ذہانت اور محنت سے ہر وہ کام کر سکتے ہیں جو دوسرے لوگ کامیابی کے ساتھ سر انجام دیا کرتے ہیں۔آپ میں کوئی کمی نہیں۔بے شک اللہ جتنا اُن کا ہے اتنا ہی آپ کا بھی ہے۔
٭اُمید کا دامن کبھی مت چھوڑیں۔خود پر یقین،لگن۔محنت سے کبھی نا گھبرانے والوں کے لیے وقت کبھی’’گیا گزرا‘‘ نہیں ہوتا۔وہ کبھی بھی وقت کو اپنی مٹھی میں قید کر سکتے ہیںاور ایک نئی زندگی نئی جہتوں کے ساتھ نئے عزم و حوصلوں کے ساتھ نہ صرف شروع کر سکتے ہیں بلکہ خود کو آسمان کی بلندیوں تک بھی لے جانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
٭خود کو آزمایئے تو سہی۔لیکن اپنی شرائط پر،دوسروں کی فیصلہ کن نظروں کو نظرانداز کر دیں۔آپ کیا ہیں یہ آپ سے بہتر کوئی جج نہیں کر سکتا۔لہٰذا دوسروں کی حوصلہ شکن رائے کو یکسر فراموش کر دیں اور زندگی کی طرف پہلا قدم پھر سے اُٹھائیں،دوسرا قدم خود بخود اپنے راستے پر چل پڑے گا۔


 published in urdu digest may 2017


Comments

Popular posts from this blog

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں

بچے کو گیلی مٹی سے کھیلنے دیں عافیہ مقبول جہانگیر بچہ کسی ملک یا کسی بھی طبقے کا ہو اس کی کچھ جبلی عادات ہمیشہ اور ہر دور میں ایک سی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہم جو کھیل بچپن میں خود کھیل چکے ہوتے ہیں اس کی خواہش ہم اپنے بچوں میں بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کھیل جو ہر خطہ زمین کے بچوں میں مشترکہ طور پر دیکھنے میں آیا ہے وہ ہے گیلی مٹی سے مختلف اشیا بنا کر کھیلنا ۔۔۔۔۔ بلاشبہ یہ سب بچوں کا مرغوب ترین اور پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ گیلی مٹی کا لمس اور پھر اسے اپنی مرضی کی شکل دے لینے میں کامیابی بچے کو عجیب سی لذت اور خوشی سے سرشار کر دیتی ہے۔  اکثر بچے تو مٹی سے طرح طرح کے کھلونے اور چیزیں بنانے میں اتنے مگن اور محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے گردوپیش سے بے نیاز خود کلامی کرتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد خیالی دنیا بسا کر محویت میں مبہم سی آوازیں نکالتے اور مسکراتے ہیں جو اس وقت ان کی طمانیت کو صاف ظاہر کرتی ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات آپ نے کھیلتے ہوئے بچے کے منہ سے رالیں بہتی بھی دیکھی ہوں گی۔ یہ سب اس کی خوشی اور طمانیت کا اظہار ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ مٹی سے کھ...

ڈاکٹر رُتھ فاؤ

دکھی انسانیت کی مسیحا ڈاکٹر روتھ فاؤ پاکستان میں جذام کے خلاف صف آرا ہونے والی دلیر جرمن معالج کا ناقابلِ فراموش قصۂ حیات،جنہوں نے عالم بے سروسامانی میں بھی کام کرتے ہوئے اس خوفناک مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال آسائشوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمتِ انسانیت پر صرف کر دیے عافیہ مقبول جہانگیر ’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘نوجوان نے بڑی آس اور محبت کی قندیلیں آنکھوں میں روشن کیے لڑکی سے پوچھا تھا۔ چمکتی چاندنی بھری رات میںوہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے ماربرگ کے عالیشان لینڈ گریوز کاسل کی دیوار پر خاموشی سے بیٹھے نیچے اندھیری وادی کو تک رہے تھے۔اُن دونوں کی محبت اور دوستی کے چرچے پورے ٹاؤن میں پھیلے ہوئے تھے ۔وہ اکثر پہاڑوں پر واقع دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے اور گھوما کرتے۔ایک دوسرے کے سنگ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے راستوں سے ڈیزی کے پھول چننا اور ڈھیروں گفتگو کرنا۔گوئنتھر روتھ سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا۔دوسری طرف روتھ کو بھی بے چینی سے اُس لمحے کاانتظار تھا جب گوئنتھر اُس سے شادی کی بات کرتا اور وہ بے تابی سے ’’ہاں‘‘ کرتی۔آخر کار ایک دن وہ ...

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس

جینا کوئی مشکل تو نہیں ۔۔۔بس اپنی ناکامی پر قسمت کو موردِالزام ٹھہرانے والوں کے لیے ایک پُرسوچ تحریر عافیہ مقبول جہانگیر واضح فرق ہے کہ برائی بہت جلد پھیلتی ہے جبکہ نیکی کا راستہ بہت آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ منفی رحجانات‘ خیالات تیزی سے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں اور اچھائی کو کچھ وقت لگتا ہے۔ انہی منفی رحجانات میں سب سے اہم رحجان دوسروں سے لاتعلقی اور ہر جگہ صرف اپنے آپ کو اہم سمجھنا،’’میں‘‘،’’مجھے‘‘ اور ’’میرا‘‘جیسے خودغرضانہ اصول پر کاربند رہنا ہے۔اور اگر غور کریں تو یہی سب سے بڑی وجہ ہے ناکامی کی۔ہم ہر جگہ کامیاب ہونا اور ترقی کرنا چاہتے ہیں ،ہم اکیلے ہی سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ممکن نہیں۔کیونکہ کسی دوسرے کی مدد اور سہارے کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں مل سکتی۔اور ہمیں  کوئی انسان سہارا تبھی دے گا جب ہم اپنے خود ساختہ’’میں‘‘کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی بھی مدد کریں اور ان کو بھی سہارا دے کر ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ایک خودغرض انسان ایک آدھ بار اتفاقیہ طور پر تو شاید کامیابی حاصل کر لے مگر مستقل بنیادوں پر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی ...