Skip to main content

Posts

اپنے ہوئے پرائے

اپنے ہوئے پرائے امیری اور غریبی کے فرق نے خونی رشتوں میں بھی دراڑیں ڈال دیں عافیہ مقبول جہانگیر انسان اگرچہ سماجی حیوان ہے اور مل جل کر رہنا ایک سماج، ایک معاشرے میں اس کی اقدار کا پابند رہ کر زندگی بسر کرنا اس کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں بھی مختلف طبقات اور ان کی الگ الگ اقدار کا اپنا اپنا حلقہ ہوتا ہے اور وہ طبقے جنم جنم سے اسی محور پر چلتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلسل لگن محنت اور اتفاقی واقعات کی بدولت غریب اور متوسط طبقے کے کچھ افرادیہ طبقاتی فرق تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس میں ایڈجسٹ کرنے اور اس کے طور طریقے اپنانے میں بھی خاصا وقت درکار ہوتا ہے اور اس وجہ سے بعض اوقات انہیں ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ترقی کر کے کلاس تبدیل کرنے والے افراد کو مدت تک ’’نو دولتیے‘‘ کی چھاپ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ معاشرے کے طبقات کی طرح ایک ہی خاندان میں بھی مختلف حیثیت اور مرتبے کے لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا آپس میں تعلق کمزور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہو جاتاہے اور بعض اوقات تو ایک سے ...

فیشن دیوتا کے چرنوں میں!fashion

فیشن دیوتا کے چرنوں میں!   فیشن کے نام پر چند چیتھڑوں کا بے تُکا استعمال آج کے دور میںــ’’جدت پسندی‘‘ کہلاتا ہے بیہودہ ملبوسات اور ماڈرن طرزِ زندگی ہمیں ترقی کی طرف لے جا رہے یا۔۔؟ عافیہ مقبول جہانگیر کیمرے کی چکاچوند فلیش لائٹیں آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی ہیں۔پورا ہال مع سٹیج بقعۂ نُوربنا ہواہے۔پسِ پردہ چلتی ہیجان انگیز موسیقی حواس پر طاری ہے۔ایک کے بعد ایک طرح دار حسینائیں رنگارنگ ملبوسات زیب تن کیے،فخروغرور سے گردنیں اکڑائے باری باری حاضرین کے سامنے جلوہ افروز ہو رہی ہیں۔ایسا رومان پرور اور ہوشربامنظر دیکھنے کے لیے شہر بھرکے معززین اور مشہور شخصیات ایک چھت تلے جمع ہیں۔نہ یہاں فرقوں کا جھگڑا،نہ مسلک کا۔سب مکمل یک جہتی کا عالیشان مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی اتفاق و سلوک کی عمدہ مثال بنے’’ایک قوم ہیں ہم ‘‘کی زندہ تفسیر بنے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ حسیناؤں کو داد دینے کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے پیغام بھی دیتے ہیں۔سب جانتے ہیں پھر بھی انجان بنے ہوئے ہیں کیونکہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔کون کس کی پردہ پوشی کرے اور کون کس کے راز کھولے، اس سے کسی کو ...

ظالم ہمدرد

آج صبح سے گھر میں ماحول مکّدر تھا۔ وجہ وہ چپقلش تھی جو گزشتہ کئی دنوں سے اُن میاں بیوی میں چل رہی تھی۔ کچھ دن پہلے یہی گھر پیارومحبت کا عملی نمونہ تھا۔ رشتے دار اور ملنے جلنے والے ان کے گھرانے کی مثالیں دیا کرتے تھے مگر اب یہی گھر امن و سلامتی کی بجائے میدانِ جنگ کا روپ دھار چکا تھا۔ ہوا کچھ خاص نہیں تھا گو بات ذرا سی تھی مگر بڑھتے بڑھتے خوفناک رُخ اختیار کر چکی تھی اور اب اس الجھی ڈور کا کوئی بھی سرا ڈھونڈ کر اسے سلجھانا ناممکن ہو چکا تھا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے ’’میاں بیوی کا ایک دوسرے کی طرف محبت کی نظر سے دیکھنا بھی ثواب اور نیکی کا کام ہے، دونوں جب ایک دوسرے کی طرف محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو اللہ خوشی کا اظہار فرماتا ہے جبکہ شیطان غصے اور طیش میں آ کر دونوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری،مسلم ترمذی) ایک دن جب ہارون کے آفس جانے کے بعد نازیہ اپنے چھوٹے سے سجے ہوئے پرسکون گھر کے لان میں چائے کے چھوٹے چھوٹے جُرعے لیتی شاداں و فرحاں بیٹھی پھولوں کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک اُس کی برسوں پرانی ایک دوست اُس سے ملنے چلی آ...

دلِ برداشتہ،ذرا حوصلہ

 نفسیات اقدامِ خودکشی ۔۔۔۔جس میں جسم سے پہلے روح کی موت واقع ہو جاتی ہے عافیہ مقبول جہانگیر سترہ سال کی عمر میں اُسے کالج سے نکال دیا گیا۔جب وہ ۲۵ سال کی تھی تب اس کی ماں ایک بیماری کی وجہ سے دنیا سے چل بسی۔شادی کے بعد اس نے اپنے شوہر کے بے پناہ مظالم سہے اور اس مار پیٹ و تشدد کی وجہ سے ۲۷ سال کی عمر میں وہ اپنے آنے والے بچے کو بھی کھو بیٹھی۔پھر اس کے گھر ایک بیٹی نے جنم لیا۔ ۲۸ سال کی عمر میں اُس کے شوہر نے اُسے ذہنی مریضہ قرار دے کر طلاق دے دی۔وہ وقت اُس نے شدید ڈپریشن اور مشکلات سے تنہا نبرد آزما ہوتے ہوئے گزارا۔ ۲۹ سال کی عمر میں ایک سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن نے اس کو پناہ دی  اور وہ ان کی زیرِ نگرانی اپنی بچی کے ساتھ زندگی کے دن گزارتی رہی۔ لیکن وہ پے در پے ناکامیوں اور دکھوں سے تنگ آ چکی تھی اور اب اُس میں جیسے برداشت کا مادہ ختم اور حوصلہ دم توڑتا دکھائی دے رہا تھا۔آخر صرف تیس سال کی عمر میں اُس نے اپنی بچی کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے خودکشی جیسا خطرناک اور انتہائی قدم اُٹھا تے ہوئے خود کو مارنے کی کوشش کی مگراُسے بچا لیا گیا۔وہ اتنی مایوس...